Tuesday, 19 January 2021

Mohabat e Rasool SAW

 

سوال:: ہمیں اللہ سے کیا مانگنا چاہیے؟

جن حضرات سے میں نے سوال کیے اُنہوں نے اپنی فہم ، فراست اور علم کے مطابق جواب دیے۔ جوابات ملاحظہ فرمائیں۔

عامر بشیر اور عارف صاحب کا یک ہی جواب ہے عشق ردول صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ مکمل جواب ہے۔۔۔۔

رسلان صاحب ، ایڈمن آفیسر:- اللہ کی رحمت مانگنی چاہیے۔ا

بلاول انور صاحب ، میڈیا آفیسر:-اللہ نے ہمیں جس مقصد کے لیے زندگی عطا فرمائی ہے ہمیں وہ مقصد پورا کرنے کی توفیق مانگنی چاہیے۔

حافظ نعمان ، آر اے سی انجینئر:-تندرستی مانگنی چاہیے۔

حافظ شاہد ، فارماسسٹ :-اللہ نے قرآن میں پہلے ہی دعا بیان کردی ہے جو سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہے اھدنا الصراط المستقیم ۔۔۔۔ الضالین۔

حافظ اسد صاحب ، ایڈمن ہمیں بخشش مانگنی چاہیے۔

عاصم علی صاحب ، الیکٹریکل انجینئر- ماں باپ کی بلکہ سارے مسلمانوں کی بخشش مانگنی چاہیے، گناہوں کی معافی بھی مانگنی چاہیے۔

فاخرہ صاحبہ ،ڈائٹیشن:-ہم نیک راستہ پر چلتے رہیں اور اللہ اپنے سوا کسی اور کا محتاج نا بنائے۔

خالد صاحب، ایڈمن آفیسر:-محبوب کی اتباع، اس کے علاوہ استقامت اور توفیق مانگنی چاہیے۔

اعجاز الیاس صاحب ، کیمیکل انجینئر:-اللہ کا کرم اور فضل مانگنا چاہیے۔

عاشق صاحب ، لیکچرر میتھمیٹکس :-اللہ سے استغفار اور ایمان مانگیں، اگر وہ ولی ہے یا ولی بننے کی آرزو 

ہے تو موت مانگنی چاہیے۔

میرا جواب محبتِ رسول کریم صلی اللہ  علیہ وآلہ واصحاب وسلم ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ محبت کیا ہوتی ہے؟ جواب ہے کہ یہ دل میں ہوتی ہے۔اگر ہمیں کسی سے محبت ہے تو اس کا کوئی دلبر بھی ہوگا۔ یہ اسی سے کی جاتی ہے جو اس کو نبھانا بھی جانتا ہو۔یہ اصل میں دل کی کیفیت کا نام ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ محبت ایمان کی زندگی اور روح کی غذا ہے۔

کسی نی کیا سچ کہا ہے" محبوب کی خوبیوں میں گُم ہونے کا نام محبت ہے"۔

مُحب کی اپنی کوئی ذات نہ رہے، اُس کی ذات کی نفی ہوجائےتُو تُو نا رہے بس وہ ہوجائے۔

دل کا کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف میلان رُحجان اورلگاو محبت کہلاتا ہے۔ جب ہم پر کسی کا احسان بار بار ہو تو ہم اس سے محبت کرنا شروع کردیتے ہیں، یہ فطری بات ہے۔

اسی طرح جس طرح حافظ شاہد نے کہا کہ اھدنا الصراط المستقیم تو اس سے مراد بقول حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ یہاں تو بغیر کسی اور تشریح و توضیح کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی مانگ لیا گیا ہے۔اے اللہ ہمیں ہدایت عطا کر وہ ہدایت سیدھا رستہ تو خود آپ سرکار رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ جناب عامر بشیر، جناب عارف اور شاہد صاحبان کے جوابات کمال درجہ کے ہیں، ماشاءاللہ

قرآن پاک ایک اور جگہ رقمطراز ہے

قُل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی یحببکم اللہ۔۔۔۔۔۔

اللہ کی ذات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لب مبارک سےیہ کہلاتا ہے کہ میرے پیارے نبی آپ یہ کہہ دیں کہ جو اللہ کی محبت چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے۔لفظ اتباع کا معنی پیروی، پیچھے چلنا اور پابندی کرنا ہے۔اتباع میں ہمارا طورطریقہ اگر خوشگوار نا ہو تو عمل کرنا آسان نہیں رہتا۔

جن حضرات نے بخشش، عزت، تندرستی، گناہوں سے  معافی، فضل، کرم، قُرب، رحمت، نعمت اور توفیق مانگی ہے اُن کا اپنا نقطہ نظر ہے۔

اللہ تعالٰی نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے محبت کی ہے۔ یہ محبت کرنااللہ کی سُنت ہے۔اگر لفظِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو چار حروف اک مجموعہ ہے  ان کے معنی سمجھیں جائے تو لفظ محمد یعنی بہت تعریف کیا گیا، یہاں ذرا رُک کراس بات پہ غور کیا جائے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک تو اللہ نے اسمان میں رکھا تھا جہاں ابھی انسان نہیں تھے تو تعریف کس نے کی، یا پھر جنوں نے کی، مگر بات سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی۔ یا یھاالذین امنوصلوا علیہ وسلموا تسلیما۔ سورۃ الاحزاب-56

ترجمہ۔ اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درورد بھیجتے ہیں،مومنو تم بھی ان پر درورد و سلام بھیجا کرو۔

عربی زبان و کلام میں لفظ' یصلون' کا معنی و مطلب بھیجتے اور بھیجیتے رہیں گے کے آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے فرشتے تو یہ کام اپنائے ہوئے ہیں تبھی تو سمجھ آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی تعریف کیا گیا کیسے ہے۔ غرضیکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میم ہٹا دو تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف مطلب بنتا ہے، اگر حا کو بھی ہٹا دو تو مد رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہمیشہ رہنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہوئے، اگرمیم بھی ہٹ گیا تو دال یعنی دلیل جو روز محشر میں اُمتی اُمتی کہنے والی صرف صرف اک ہی ذاتِ اعلٰی اولٰی ارفع ہے جن کا نام نامی سیدنا محبوبنا شفیعنا نبینا حضرت محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم ہے۔

اللہ نےا پنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیار سے پکارا اورمُخاطب کیا ہے۔ اللہ کا اپنی مخلوق سے اعلان ہے کہ میں نے تمہیں ایک بڑے حوصلہ مند، اولالعزم، صابر، شفیق،راہ مُستقیم پر چلنے والےاور سیدالبشر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سپرد کیا ہے اب تم بالکل نا گھبرانا اور یہ پیارا نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بہت چاہتا ہے، تمہاری ہر مُصیبت اس پہ بہت گراں گذرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں۔ تو ایسے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں نا ہو۔

اللہ نے خود اپنے بارے میں کہا کہ میرا صفاتی نام ظاہر ہے اور محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نُور کا مظہر ہیں۔ اور فرمان باری تعالٰی ہے' کنت کنزامخفیا'

آپ سرکار عالی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے تو ہم سارے بخش دیے جائے گے۔

اللہ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نُور کو تخلیق کیا۔جب یہ نُور مرکز سے مقام شہود پہ آیا تو اللہ نے اس کودس ہزار سال تک قُربِ خاص میں رکھا۔ اس نُور کے چار حصے کیے ایک سے عرش، دوسرے سے کرسی تیسرے سے حاملان عرش بنائے اور چوتھے کو بارہ ہزار سال تک مقام محبت میں رکھا۔اس کے باقی نوری مقامات و درجات ہیں ان کی تفصیل یہا ں بیان نہیں کی جا رہی وہ ایک الگ بحث ہے۔

علاماتِ محبتِ رسول ارم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ وہ اتباع نبوی میں اول ہوتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ کثرت سے درود و سلام بھیجتا ہے، سیرت پاک کو پڑھتا ہے اور عمل کرتا ہے، مدحت کی مخفلیں سجاتا ہے، اصحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کے ذکرو مطالعہ سے مُستفید ہوتا ہے اور اس سے محبت رکھتا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اصحابہ کرام ، اہل بیت اطہار،آئمہ کرام، علماءکرام، اولیاء اللہ اور مسلمانوں کے لیے نرم دل رکھتے اور ان کی صُحبت کو پسندکرتا ہے۔ جو لوگ محبت سے آپ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر درورد پڑھتے ہیں حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جانتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

ریحان بشیر قادری امینی علائی شکوری  

 

 


Monday, 12 October 2020

Shajra Shareef Qadria Allayia Shakooria

 
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
                 اَللہُ
ھُوَالقَادِرُ                        ھُوَالشَّکورُ                ھُوَالمعینُ        
کشَجرۃ طیّبۃ اَصلُھَا ثابتُ فَرعُھَا فِی السَّمَاء    
شجرہ طیبہ سلسلہ عالیہ قادریہؒ علائیہؒ شکوریہؒ چشتیہؒ منعمیہؒ        
حضرت سیدنا شیخ  شاہ محمد امین شاہؒ
زُہدۃ العارفین قدوۃ السالکین قطب دوراں غوث  بخطاب غیبی فخرالمتوکلین قادری علائی شکوری چشتی منعمی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ شمس العارفین الشاہ محمد علا ء الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ محمد عبدالشکورتاج الاولیاء قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ نبی رضا خان اسد جہانگیر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ فخر العارفین محمد عبدالحی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  العارفین مخلص الرحمٰن  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ امداد علی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ محمد مہدی الفاروقی القادری قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مظہر حسین  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم شاہ حسن دوست المقلب شاہ فرحت اللہ  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم شاہ حسن علی  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم منعم پاکباز قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر خلیل الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر جعفر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر اہل اللہ قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر نظام الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر تقی الدین  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر نصیر الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر محمود قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر فضل اللہ عرف کسائین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ قطب الدین بینائے دل قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ نجم الدین قلندر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  بن مبارک غزنوی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  الشیوخ شہاب الدین سہروردی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  محبوب سبحانی عبد القادرالجیلانی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو سعید بن مبارک مخزومی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو الحسن علی الھنکاری الغزنوی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابویوسف طرطوسی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ رحیم الدین عیاض قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ سری سقطی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام
حضرت سیدنا امام موسٰی کاظم علیہ السلام
حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام
حضرت سیدنا امام  محمد باقر علیہ السلام
حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام
حضرت قرۃ عینی رسول الثقلین سیدنا امام حسین علیہ السلام
حضرت سیدنا اسد اللہ غالب علی بن ابی طالب علیہ السلام
آقائے دو جہاں حضرت احمد مجتبٰی محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم
 

Thursday, 26 December 2019

Bait kya hai


سوال ہے کہ کیا بیعت ہونا ضروری ہے؟
پہلی تو بات یہ کہ لفظ بیعت کا معنی کیا ہے۔ یہ لفظ بیع سے ہے جس کا مطلب بیچنا اور تجارت ہے کہ تم نے جنت کے حصول کے لیے اللہ کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔
صوفیاء اور اولیاء اللہ کے نزدیک اس بیعت کا مطلب اللہ والوں سے نسبت، نفس کی اصلاح اور خدمت شیخ ہے یہ ایک مستحب عمل ہےاس میں انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اس راہ کو پکڑنا انسان کے اپنے اختیار اور مرضی سے ہے۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ جب حضور ﷺ ہیں تو پھر پیر کی بیعت کا کیا وجود؟ کچھ کا کہنا ہے کہ پیر غوث اعظم ہمارے پیر ہیں، کچھ غریب نوازکو اپنا راہبر مانتے ہیں کہ اب ہمیں بیعت کی کوئی ضرورت نہیں۔
بعض علماء کرام بخاری اور مسلم کی احادیث سے بات ثابت کرتے ہیں کہ جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے دی وہ بچ یا۔ اہل حق کا معاملہ ذرا مختلف  ہے ان کو کسی راہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھ کے بغیر نادیدہ منزل کو پار کرنا دشوار ہوتا ہے۔ پیر کے بغیر کون طریقت کی باتیں اشکار کرے۔ بیعت کر لینا طریقت میں داخل ہونا ہے۔ خودبخود اصلاح ہوجائے تو ااور کیا چاہیے۔ یہ راہ اصل میں راہ باطن ہے۔ ہم لوگ علم ظاہر پہ یقین کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔
ستر برس رات جاگ کر عبادت کی اور دن میں روزے رکھ کر دیکھ لیےتو مقام نہیں ملتا۔ کیوں کیا عبادت بے وجہ تھی؟ کیا نماز نہیں آتی تھی؟ کیا روزہ کی سمجھ بوجھ نا تھی۔ سب کچھ تھا مگر ایک بات جو اہم نکتہ ہےکہ علم باطن کی روشنی ہے وہ میسر نا تھی۔ یہ علم باطن کوئی عام بات نہیں جو ہر ایک کا حصہ ہو یا چھین کر حاصل ہوجائے۔ یہ بچوں کا کھیل تماشہ نہیں ہے۔اس میں شیخ کی ضرورت ہوتی ہے جو راہ بتائے، راہ کی پہچان بھی بتائے، راہ پہ بھی چلائے، جو راہ میں مشکل آئے تو اس کا حل بھی بتائے یعنی اللہ کی راہ سے ڈولنے نا دے۔ دل کو نکھارتا رہے، نظر کرتا رہے اور رعایت دلاتا رہے ایک مکمل رول ماڈل ہو۔ پیر و مُرشد کے بغیر عبادت روح کونہیں پہنچتی اس کی عبادت کو اس کا اپنا نفس کھا جاتا ہے۔ مراد کیا ہوئی کہ بعداز عبادت نفس شیطان کے ایسا حملہ آور ہوتا ہے کہ انسان سنبھل نہیں سکتا۔ اگر فرد کوراستہ میں کوئی مشکل اتی ہے تو مرشد اپنی جدوجہد اور مشاہدہ کی مدد سے اس کا مسئلہ حل کرتا ہے۔ پیر ہی اس معاملے میں راہنمائی کرتا اور فرد کو بتاتا ہےکہ اب اندر کی طہارت کیسے کی جائے۔
قرآن مجید میں ہے
فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔
سوال کرو اہل ذکر سے اگر تم نہیں جانتے۔
اھل ذکر ہی اھل علم ہیں ان سے سوال کرو یہ تمہیں حل بتائیں گے۔ قلبی ذکر والے جن کے دل کی دنیا آباد ہے۔ وہ علم باطن رکھتے ہیں ان کو تقوٰی اور احسان مل گیا ہے۔ وہ باعمل اور صاحب معرفت ہوچکے ہیں۔ پوچھو ان ذکر والوں سےجگر والوں سے نور والوں سے وہ ہی بتائیں گے کہ مقبول عبادت کیا ہے۔
اصل میں ایک عام آدمی سوچ تو بلند رکھتا ہے مگر عمل میں اتنا بلند نہیں ہوتا یہی سمجھتا ہے کہ شاید یہ رابطے عبادتیں کسی اور کا مخلوق کا کام ہوگا، وہ اپنی کم فہمی ہی میں مارا جاتاہے۔ جو خود اُڑتا ہے وہ کہیں نہیں اُڑتااور جس کو اس کا پیر اڑائے وہ خوب اڑتا ہے۔ پیر پہنچ والے رسائی والے لوگ ہیں۔ ان کی عبادت و ریاضت ان کا ذکر ان کا فکر ان کو اللہ کے بہت قریب کر دیتا ہے۔ یہ عطائی لوگ ہیں جن کو رب کی بارگاہ سے ایک خاص فیض حاصل ہوتا ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو اللہ تک نا جا سکا تو اس لیے کہ اس نے راہ اختیار ہی نہیں کی، نا تو اس کی تلاش تھی نا اس کو اس کی کوئی پہچان تھی اور پہچان بھی کیا کرتا اس کا ایمان مکمل نا تھااور اس سب کی بڑی وجہ کیا ہے کہ اس نے کسی مرد حق سے غوض و غایت نا رکھی۔
علم ظاہر کے لیے ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو جو راہ ہی اللہ کی طرف جاتی ہے وہ بہت آسان ہوگی جس راہ میں شیطان گھات لگائے بیٹھا ہو جہاں دھوکے باز بہلانے پھسلانے والا نفس ہو وہاں کوائی تمہاری راہنمائی ا کرے تو کیا تم اتنے ہوشیار ہو محتاط ہو کہ ان کے فریب سے بچ جاو۔ جب بھی تم کوئی اچھا کام کرو تہ شیطان راستے میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیتا ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ تو اس حد تک فرماتے ہیں کہ تم جس شخص کو ارادت میں لانا چاہتے ہواس کو ایک سال پرکھو اور اگر ثابت قدم ہو تو مرید کرو اور دوسری صورت میں انکار کردو۔ جب ارادت کا راہزن شیطان ہے تو وہ کب چاہے گا کہ آدمی اصل اللہ اس کے رسول مقبولﷺ کے راستہ میں کامیابی لے کر دوسروں کے دلوں کو بھی گرماتا پھرے۔
دیکھو! جب کہا جاتا ہے کہ علم باطن میں پیر کی ضرورت ہے تو یہاں تربیت کا نکتہ آ جاتا ہے۔یہاں ایک بڑا اہم واقعہ کہیں بیان سے رہ نا جائے اس کا بیان بھی ضروری ہے تاکہ سلسلہ کے مریدین اچھی طرح سمجھ جائے۔ مریدکے کے ہی رہنے والے ایک بزرگ صفدر شاہ صاحب علیہ ا لرحمۃ ایک بڑے مرتاض ولی کامل ہوئے ہیں، ان ہی بابت بیان کرتا ہوں کہ وہ پہلے ایک بزرگ اکرم شاہؒ کے مرید و خلیفہ ہوئے مگر آپ سرکار کی عبادت و ریاضت بلند درجہ کی تھی تو اللہ تعالٰی کی ذات نے ان کو اس صدی کے معروف و مشہور بزرگ حضرت شاہِ شکور تاج الاولیاءؒ کی ان کو خواب میں زیارت کرائی۔ حضرت نے ان کو اپنا مرید کرلیا کافی دیر یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ پھرحکم ہوا کہ اب کسی کے ظاہری مرید بھی ہوجاو کہ جو معاملات کی درستگی کرے۔ تو پھر حضرت شاہ شکور کے فرزند عالی حضرت علاءالدینؒ کے دست حق پرست پہ آپ سرکار نا صرف بیعت ہوئے بلکہ آپ کو خلافت سے بھی نوازا گیا۔ لہٰذا کسی کا ظاہری بیعت ضروری ہوتا ہے اور یہ واقعہ بہت پرانا نہیں 1955 اور 1966 کے درمیان کا ہے۔ حضرت صفدر شاہ ؒ کا مزار اطہر مریدکے منڈی کے قریب ہے اور وہاں سے اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کے لیے روحانی تجلیاں بانٹتے ہیں۔  
 سلسلہ عالیہ قادریہ علائیہ شکوریہ چشتیہ میں ذکر خفی کی تعلیم دی جاتی ہے یہ ذکر خفی علوم اسرار سے پُر ہے جب مرید اس کی باقاعدہ مشق کرتا ہے تو اس کو کئی طرح کی باتیں بلحاظ اس کے عمل کے اس کو پیش آتی ہیں ان سب کا احاطہ پیر ہی کرتا ہے۔یہ معاملے دل کی آنکھ سے حل ہوتے ہیں اس میں سر کی آنکھ کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ پیر اپنے مرید کو راہِ حق دکھاتا اور پہچان کرواتا ہے۔ اس کے عقائد کو درست کرتا ہے اور سب سے بڑی بات کے مرید کی پہنچ اور طاقت کے مطابق ہی سبق دیتا ہے۔
کھا تیر کسی دیاں نظراں دا
تینوں عشق کمانا آ جاوے
پیر کی نظر کیمیا سے مرید مجاہدے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پیر صاحب کے پاس جاتے ہیں تو سکون بہت ملتا ہے یہی تو وہ روحانی کیفیت ہے جو فیض کہلاتی ہے۔ شیخ کے پاس جا کر مرید کو محنت کم اور فیض زیادہ حاصل ہوتا ہے، اس کا کام بن جاتا ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جو اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ بے شعورے اس کو کس طرح سمجھے وہ تو دولت کو ہی دین بیعت فیض اللہ کا کرم احسان مانتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جس نے بچوں کے لیے مکان نا بنایا اس نے غلط کیا وہ پاجی ہے سست ہے کام نہیں کرنا چاہتا سارا دن فارغ رہتا ہے۔ ارے نادانوں تمہیں کیا معلوم ہو کہ معرفت اللہ کیا ہے حالانکہ اسی میں تمہاری زندگی گزر جاتی ہے لیکن تمہیں کچھ وقوف نہیں۔
یہ تو وہ ہستیاں ہیں کہ جن کا جلیس با نصیب ہوتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ کسی کا بیعت نا ہوجانا کہیں تم سست روی کا شکار نا ہوجاو۔ تو جواب دو کہ آپ سرکار دو عالمﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کیوں کیا اور اسی طرح یہ سلسلہ تو آج بھی قائم و دائم ہے۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن علیہ السلا م کو کیا ضرورت تھی کہ وہ بیعت کا کام کرتے اس کے بعد کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید لعین کی بیعت کیوں نا کرلی، ارے نافرمانوں یہ بیعت رسولی ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
ایک بیعت رضوان ہے جس میں دو نوروں والے کی بیعت لی جارہی ہے۔ بتاو کہ کیا نور والے کو بھی بیعت کی حاجت رہتی ہے۔ حضرت عثمان غنی کا نکاح پاک تو سیدنا و محبوبنا سید المرسلین ﷺ کی دو بیٹیوں سے ہوا تھا۔ وہ تو کہلاتے ہی ذوالنورین تھے۔ پتا چلا کہ یہ سُنت مُصطفٰی ﷺ ہے کہ بیعت کی جائے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ارشاد کے بعد حکم ہوا کہ دو زانو ہوکر بیعت کرلو۔
حضرت امام بن حنبلؒ اکثر حضرت بشر حافیؒ کو ملنے جاتے تو ان کے لوگ پوچھتے کہ آپ توخود عالم ہیں امام صاحب نے جواب دیا کہ کتاب اللہ کا عالم ہوں اور حضرت بشرؒ عالم باللہ ہیں۔ میں تو کہتا ہوں بیان کرتا ہوں تو یہ اس کو براہراست دیکھتے اور اس تک خوب رسائی رکھتے ہیں۔
اللہ نے ان برگزیدہ ہستیوں کے ذکر کو ان ہیکے چہروں اور ماتھوں پہ سجارکھا ہے، ان کے دمکتے روشن اور پُر رونق رُخ اس بات کی ضمانت ہے کہ ان کو دیکھ کر ہمیں اللہ یاد آجاتا ہے۔
جاہل علماء نے امت کے ضمیر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں کہ بیعت کی ضرورت نہیں۔ یہ علماء نہیں علامے ہیں وہ پنجابی عورتیں کہتیں ہیں نی میں تینوں دسا تیرا منڈا نرا علامہ ہیگا اے۔
سورۃ فتح آیت 10 میں ارشاد باری تعالٰی ہے کسی انسان کا نہیں ہے۔
ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ۔ یداللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفی بما عھد علیہ اللہ فسیوتیہ اجرا عظیما۔
ترجمہ۔ جو لوگ آپﷺ سے بیعت کررہے ہیں تو وہ واقعی اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا یاتھ ان کے ہاتھوں پہ ہے۔ پھر بعد بیعت جو شخص عہد توڑے گاسو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گااور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا اس کے لیے اجر عظیم ہے۔
اللہ مسبب الاسباب ہے وہ انسان کے لیے تحت الاسباب تو اس کو عنائت کرتا ہی ہے اور اس کے علاوہ فوق الاسباب کسی کی نظر کے تحت عطا کرتا ہے۔  
ان ہی اھل ذکر کے بارے میں ارشاد ہے
یا ایھا الذین امنوااتقواللہ وکونوا مع الصادقین۔
اے ایمان والو اللہ سے ڈرواور صادق لوگوں کے ساتھ ہوجاو۔
یہاں ساتھ ہونا بیعت ہونا ہے۔ ایک اور جگہ پر پیران پیر حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی المعروف غوث اعظمؒ فرماتے ہیں۔
عادت الٰہی اس بات پر جاری ہےکہ اس دنیا میں ایک پیر ہو اور ایک اس کا مرید ہو۔ ایک پیشوا ہو ایک پیروکار ہو۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری  رہے گا۔ اللہ اور بندے کے درمیان پیر کا مقام برزخ کا سا ہوتا ہے۔ راستہ طے کروانے والا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم بیعت کے معاملے کو سمجھ جائے۔ باقی باتیں تو اللہ اور رسول کریمﷺ اور مرشد امین رحمۃ علیہ ہی جانتے ہیں۔
والسلام ریحان امین قادری امینی علائی شکوری چشتیؒ