Thursday, 20 April 2023

DROOD PAK

اللہم صل علی سیدنا محمد وعلی ال سیدنا محمد واصحاب سیدنا محمد و بارک وسلم علیہ از حضرتشاہ محمد امین شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ

Monday, 20 March 2023

جو نا جان پہ کھیل جائے وہ اس طرف نا ائے

جو نہ جان پہ کھیل جاے وہ نا اس طررف کو ائیں کہ دیار عاشقی میں راہ واپسی نہیں ہے اس شعر میں شاعر نے روحانیت کے جو انمٹ موتی جڑ دیے ہیں وہ بڑے قابل دید ہیں اور ان موتیوں کواپنی زندگی کا حصہ بنا لینا بڑے شرف کی بات ہےمزید یہ کہ ان کو زبانی ازبر یاد کرلینا کسی اب حیات سے کم نہیں۔ اصل روحانیت جس کی مثال ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں سے ملتی ہے اسی شعر کی عملی تفسیر ہے۔ جس طرح اج کل کے شخص نے روحانیت کو ارام و سکون دولت اور اپنا عیش حاصل کرنے کا وطیرہ سمجھ لیا ہے مگر ایسی بات نہیں ہے۔ کچھ عاملوں نے سادہ لوگوں کی فہم و فراست کو یکسربدل کر رکھ دی ہے۔ ہر شخص محنت نہیں کرنا چاہتا بس کیا ہے ہاتھوں پہ سرسوں جمانے کا درخواستگزار بنا ہوا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ روحانیت میں کچھ نہیں، اس میں جو ذکر اور وظائف دیے جاتے ہیں ان میں کوئی کمی نہیں ہے، ہم مرید ہیں یا عام مسلمان ہمیں تو ہر حالت میں آپ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنی ہے۔جو بات شرع کو اپنا کر ملتی ہے اس کا کوئی جوڑ نہیں ،بات ا جاتی ہے اصلاح کی جو شریعت اختیار کرکے ملتی ہے۔ عام ادمی مرید ہوتا ہے تو اس کو یہ بات جاننی ہے کہ جس جماعت سے وہ منسلک ہونے جارہا ہےوہ کوئی جادوگروں کی جماعت نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں پیر صاحب کے بیعت ہوئے۔ اب لفظ بیعت کے کیا معنی ہیں جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ لفظ بیعت ' بیع' سے نکلا ہے جس کا مطلب خریدنا اور بیچنا ہے۔ کسی شیخ کے ہاتھ پر اپنے دینی و دنیاوی گناہوں سے توبہ کرنا اور عہد کرنا کہ ائندہ گناہ نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے گا اور جتنے بھی اخلاق رذیلہ ہیں ان سے اجتناب کرتا رہے گا۔اپنے ہر وسوسے اور خدشات کو اپنے راہبر کے روبرو پیش کرے گا، شیخ کی تعلیم کردہ عبادت پر عمل پیرا رہے گا۔ اپنے شیخ کی صحبت کو اختیار رکھے گا،ہفتے میں ایکبار جائے یا مہینہ میں ایکبار یا پھر سال میں ایکبار ضرور حاضری دے گا۔ صحبت شیخ سے مرید کے دل پہ لگا زنگ دھل جاتا ہے ،ادب کا دامن نا چھوڑے اگر شیخ کی کوئی بات اس کو سمجھ نا ائے تو اعتراض نا کرے کیونکہ اعتراض اس کے حق میں کسی ہلاکت سے کم نہیں۔ مرید خریدتا تو اللہ کا ساتھ ہے مگر اپپنا اپ نہیں بیچتا۔ اس کا نفس جس میں لالچ حرص بھری پڑی ہے اس کو اپنے راہبر سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے لیکن اس نفسانی کام کے چھپانے میں وہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ ایک ضدی بچے کی طرح اپنی ہٹ دھرمی پہ لگا رہتا ہے۔ اصحابہ کرام نے اسلام کے اوائل میں اور بلکہ جب تک اسلام مکمل نا ہوا کافرین مکہ کی شوروں کا شکار رہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ کی راہ کانٹوں سے پر ہے۔ ہمارے پپپیارے نبی علیہ الصلواۃ والسلام کو کیا کیا مشکلات درپپیش ہوئیں پورا عالم اسلام اس کا گواہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجے گئے اپپ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم دعا فرمااتے تواصحابہ کرام کو اذیتوں سے نجات مل جاتی اس میں کیا حکمت تھی ؛ آئیں کچھ اصحابہ کرام رضوان اللہ علییہم اجمعین کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں؛ اس سے پہلے کہ ہم اصحابہ کرام کے بارے میں بیان کریں تو جو باعث کائنات ہیں ان ذی وقار کا ذکر نا کرنا گناہ کبیرہ ہے میری مراد تاجدار دو جہان سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم ہے۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کافریم اور مشرکین کی بہت سی اذیتوں اور تکلیفوں کا سامنا کیا۔ کافر اپپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے شریر لڑکوں کو لگا دیتے اور وہ دیوانہ کی اوازیں لگاتے۔ راستے میں کانٹے ھینکتے اور طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے۔ اسی طرح وہ اصحاب کرام کو بھی تنگ کرتے کہ اللہ کو ایک نا مانیں اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بات نا سنیں۔ اصحابہ کرام کو جن تکالیف اور اذیت سے گزرنا پڑا اج کا مرید تو بالکل ازاد ہے۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو کوئلوں پہ لٹا کر ایک ادمی ان پر کھڑا کردیا کہ ان ہی کے جسم کی چربی کی رطوبت سے کوئلے بجھ گئے، ایک موقع ر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی کمر دیکھی تو وہاں سفید نشان تھے اپ امیر المومنین نے اس بابت دریافت کیا تو حضرت خباب نے وجہ بتائی اس ہ حضرت عمر نے اپ کی کمر کو چوم لیا اور زاروقطار رونے لگ گئے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو بالو پر چت لٹا کراتنا مارا جاتا کہ اپ شدت درد سے بے ہوش ہوجاتے۔ اپ ہی کی والدہ محترمہ بی بی سمیہ رضی اللہ عنہا کو کفار نے اس زور ست نیزہ مارا کہ اسی وقت شہید ہوگئی۔ ان للہ و انا علیہ راجعون۔ حضرت یاسر رضی اللہ عنہ بھی کفار کی مار کھاتے ہوئے شہید ہوئے۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ بھی مار کھاتے ہوئے بے ہوش ہوجاتے۔ حضرت بلال حبشی نے مشرک سردار امیہ بن خلف کے تمام مظالم کے باوجود کلمہ حق کہنے سے باز نا رہے۔ حضرت ابو طالب نے کفار مکہ کے سرداروں کےتمام تر دباو اور دھمکیوں کے باوجود نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مدد و نصرت نا چھوڑی ایک موقع پر جب کفار ایک حد سے بڑھ گئے تو حضرت ابو طالب نے اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دین حق کی تبلیغ پر نظر ثانی کتنے کو کہااپ صلی الللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا جان اللہ کی قسم اگر قریش میرے ایک ہاتھ سورج اور دوسرت ہاتھ میں چاند لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے اس فرض سے باز نا اونگا اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ان الفاظ نے حضرت ابو طالب کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا اور اپ نے انتہائی جوش میں انکر یہ کہہ دیا جاو میں تمہارے ساتھ ہوںجب تک میں زندہ ہوں کوئی تمہارا بال بھی بھیکا نہیں کر سکتا۔ جب مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کرنے لگے تو کافروں نے کہ تو انا سارا مال و اسباب چھوڑ کر جا سکتے ہو تو تمام اصحابہ نے دنیا کی دولت کو لات مار کرایمان کی خاطر مدینہ چلے گئے۔ حتی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی بنو ہاشم ساری جاگیر چھوڑ کر مدینہ ہھرت کی، اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود دنیاوی مال و اسباب کو راہ حق میں قربان کردیا۔ واضح رہے کہ کفار مکہ کا ظلم صرف غریبوں اور غلاموں تک ہی محدود نا تھا بلکہ اس میں امیر تاجر اور رئیس بھی شامل تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق جو مکہ کے ممتاز اور متمول ادمی تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ایک مرتبہ ان کو اتنا مارا کہ اپ سر پہ چوٹ لگنے سے خون میں لت پت ہوگئے۔ حضرت عثمان غنی کے چچا نے رسیوں میں جکڑ کر اپ کو بہت مارا۔ اسی طرح حضرت زبیرنم العوام کے چچا اپ کو چٹائی میں لپیٹ کر اپ کی ناک میں دھواں دیتے تھے۔ اس وقت مسلمان مکہ کے مال و دولت اور ارام و اسائش کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں جلا وطنی اختیار کی اور مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ دنیاوی مال و دولت کی محبت سے پاک دل ہی دین محمدی صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ و بارک وسلم علیہم کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دنیاوی مال و دولت کو مردار قرار دیا اور اس کے طلب گاروں کو گمراہ قرار دیا۔ حضرت ابو ذر غفاری نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں میں مال و دولت اکٹھا کرنے کے رحجان کی حوصلہ شکنی فرمائی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےنفسانی خواہشات کے خلاف جہاد کو جہاد اکبر قرار دیا۔ حضرت عمر فاروق نے دنیاوی مال لوٹ مار سے اکٹھا کرنے والوں کوکتوں سے بدتر قرار دیا ہے۔ حضرت عثمان غنی نے اپنے مال و اسباب سےاسلام کی خدمت میں خرچ کر دیے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے بھی اپنے مال سے کئی غلاموں کو ازاد کروایا۔ سابقون اولون اصحابہ کرام نے تمام عمر دنیاوی مال و اسباب کو خاطر میں لائے بغیر دین حق کی تبلیغ و اشاعت کی۔ یہ تمام با صفا ہستیاں جنہوں نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اورپیروی کرکے بہترین زندگی گزاری، اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع و اطاعت کو من و عن اختیار کیا۔ عام مسلمانوں کا یہ طریقہ ہے کہ اج مرید ہوئے اوردوسرے ہی دن لگے تان لگانے کہ میرا یہ کھو گیا میرا وہ کھو گیا۔ دیکھیں ہم جن کے پیروکار ہیں وہ اپنی زندگیوں میں کیا اثاثہ چھوڑ کے گئے ہیں۔ حضور داتا گنج بخش ؒ کو ہی دیکھ لیں اپؒ کی ساری زندگی اسلام کی خاطر تھی۔ کرامت و معجزہ ہمیشہ اس کو دکھایا جاتا ہے جو دیکھ کر مانے۔ اولیاء اللہ ؒ کی زندگیاں رب کو راضی کرنے میں ہی گزرتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔ یہ با صفا اولیاء کرام ؒ ساری ساری رات اللہ کے حضور کھڑے رہ کر بھی اس سے ڈرتے ہیں۔ وہ کسی نے سچ کہا ہے نالے جان پیاری تینوں نالے لبھیں قرب سجن دا خدمت ولوں جی چراویں نالے چا مخدوم بنن دا نالے مٹھی نیندر سوویں نالے شوق دیدار کرن دا تن وچ پھسیا رہنا وے اعظم تے سودا کرناں اے تن دا To be continued……….. بسم اللہ الرحمان الرحیم

Tuesday, 29 November 2022

SILSILA AALIYA & QURAN PAK

SILSILA & QURAN PAK Silsila Aaliya Qadriya Ameenia Alaiya Shakuria has always appreciated the scientific research and promotion, there are many great names among our ancestors, but in the Bangladesh and India the service and educational journey of the lineage were continued by Hazrat Maulana Abdul Hayi Sarkar Chatgami, whose uplighter should be taken. There is no example, similarly, his successors Hazrat Shah Nabi Raza khan Sahib known as Dada Mian or Sarkar Rampur Bhansori India, Hazrat Shah Abdul Shakur known as Tajul Auliya, Hazrat Al Shah Alauddin Shamsul Aarfeen, Hazrat Shah Muhammad Safdar Shah Sahib and Pir o Murshid. Khwaja Khwajagan Shah Muhammad Ameen Shah Sahib Fakhrul-Mutawakleen Damat Barakatahum Al-Alia are included. The translation and interpretation of the Holy Quran is a link in this sequence, the followers of the present time are in ominous need of making use of the Quranic sciences, so that the path of their conduct is easy. The Qur'an bestows man with prudent advice, guides him at all times through the path of wisdom and admonition, its mention is a satisfaction to the hearts, the honor of meeting Allah is obtained, it saves man from many misguidances. It reminds us that there is no aspect of life or any reality that is not its subject. Whether it is research, psychology, or any aspect of politics, it is the Holy Scripture that gives guidance to man in every case. Regarding the Qur'an, many scholars have worked very hard in it with their knowledge and consciousness and have revealed such facts that do not immediately come to the mind of a common person. The influence also started to originate among the people who are also witnesses about the truth that is indicated in its verses. The Qur'an is a book that has been recited, that has been read over and over again, and that has been exposed to people from time to time. It is a regular part of our prayers, its recitation is an essential part of the prayer. To understand the Holy Qur'an, it is the duty of every Muslim to read its translation and understand its clarification. Indeed, this is not our course book, but by reading and holding it, we can avoid going astray. God willing Begin in the name of Allah, the Beneficent and the Merciful. This Surah, rather every Surah of the Qur'an, except سورۃ توبہfor repentance, begins with Bismillah. Hadi and Murshid Hazrat Shah Muhammad Ameen Shah (May God bless him and grant him peace) said to me often that you should start all your works with the holy name of Allah. When Hazrat Suleiman (peace be upon him) wrote a letter to Queen Bilqis, it was like this: نہ من سلیمان و انہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، لا تغلوا علی واتونی مسلمین۔ This letter is from Suleiman and verily it begins with the name of Allah, th Beneficent and Merciful, that you do not disobey me and come to me in submission. One of the virtues of Tasmiyyah is proven from Hadith Sharif that it was narrated from Hazrat Jabir (RA) that when Bismillah was revealed, the clouds and the wind running towards the east stopped, waves arose in the oceans, and animals listened with their ears. And the embers of fire fell from the sky on the accursed Satan, Allah swore by His honor and glory that whoever is called by His name, He will surely heal him and whatever he is recited on, Allah will heal him. I will bless and whoever recites Bismillah ur Rahman ur Raheem, Allah will enter him into Jannah. Bismillah ur Rahman ur Raheem has nineteen letters and whoever wants to be saved from being dragged into the fire by the nineteen angels of Hell, he should recite it frequently. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) says that this is one of the names of Allah. There are three great names in it that every Muslim recites at once, then he mentions the three attributes of Allah, Allah, Rahman and Rahim. There is no annihilation of this name of Allah. If the first alphabet is omitted, then the Lilla and the second La is also omitted. Which means HE is omnipresent. When Bismillah ur Rahman ur Raheem was revealed to Hazrat Adam (peace be upon him), the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) told about it that Hazrat Adam said that as long as my generation continues to recite it, it will be protected from the fire of hell. After that it was lifted. Hazrat Ibrahim (peace be upon him) recited it while being thrown into the fire and the fire cooled down. Then it was lifted, when the reign of Hazrat Suleiman (peace be upon him) ended, it was lifted. Now that it has been given to the ummah of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), its blessing has increased even more. It was also said that you should write it in your books and writings and read it aloud. Allah's mercy is for the purpose of this world, while His mercy is to remove man from hellfire. Allah has blessed man with blessings and abilities in this world, so it is under his mercy, Rahman means that every living being is entitled to his kindness. There is no one but Almighty Allah who runs this universe, if the infidels, polytheists, disbelievers do not know His dignity, then it will not reduce his mercy and never has, the whole matter is in front of everyone. It is up to Him to give as much as He wills, He is sovereign and all creatures are subject to Him. Allah's mercy is especially for the believers, who believe in His Prophets and above all in the Prophet of Arabia. ۔ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ سورۃ انساء،Whoever obeys the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, he obeys Allah.ٍ His Highness Shah Muhammad Ameen Shah, the apple of the eye and spotlight of the lineage of Qadriya Alaiyya Shakuria, says that whoever wants to avoid the opposition of Satan should recite Bismillah Ur Rahman Ur Raheem. It is the storehouse of celebration, the honor of the strong, the shield of the weak, the light for the oppressed and the sea for the longing, this verse makes the lover believer free and makes him carefree from troubles of the world. Recite Bismillah as if it includes both the worlds of mercy and power. The word Bismillah is Jalal , while Al-Rahman al-Rahim is Jamal, he who sees Jalal perishes and he who sees Jamal is resurrected. There is wisdom and insight in everything Allah says, nothing of His will is devoid of expediency. Who revealed his book to his chosen retainer Rasool Maqbool Sarwar Kunin (peace be upon him) which is confirmed by all the early books, in this one book all the words of the Psalms, the Torah and the Gospel which have lost their originals are present in a good form. This divine book begins with the blessed name of Allah. SURAH FATEHA Al-Fatiha is the first surah of the Holy Qur'an Furqan Hameed. It was revealed in Makkah, it has one bow, it has seven verses, and it has 25 words and 23 letters. According to the holy Hadiths, this holy surah has many names, among which Umm al-Kitab, Umm Al-Daa, Umm Al-Qur’an, Al-Shifa, Salat, Al-Fatihah, Fatiha Al-Kitab, Al-Saba Al-Muthani and others. الحَمدُ للہ رب العالمیں۔ الرحمٰن الرحیم۔ ملک یوم الدین۔ ایاک نعبدو ایاک نستعین۔ Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Rahman and Rahim. He is the Lord of the Last Day. We worship ALLAH and seek HIS help. According to the rules of the Arabic language, the meaning of the word Hamad is praise. Every time the prayer is started, the praise of our Lord is given. The fact that Allah is characterized by this does not mean that He speaks to us reflexively or involuntarily that we recite His praise, but rather that He speaks to us in His praise. By will, by nature, He desires that His glory be described, for there is none other than Him, He is the One. According to the rules of the English language, whenever a name is to be made special, it is prefixed with THE meaning Article. We call it the proper noun. Then what is meant is that there is special praise for Allah, who is the Lord of all the worlds. The word Alhamdulillah means thankful, in a blessed hadith La ilaha illa Allah is said to be the best prayer and Alhamdulillah is the best supplication. In another place, Alhamdulillah fills the scale in the Hadith itself. My Hazrat Pir o rmurshid Alahazrat Shah Mohammad Ameen Shah R.A used to emphasize that after eating, say Alhamdulillah because Allah is very pleased with it. Now the word Lord who creates the substance, provides its needs and then comprehends it to completion, develops man based on his inborn abilities and qualities. Allah nurtures human beings like a mentor and gives him sustenance according to his ability. This sustenance includes his food and drink, knowledge, clothing, air, water and all other things with which he can live. Life takes a journey till death. Apart from human beings, there are also jinns, angels and birds, and He provides everyone with all the necessities according to their condition, capacity, nature and embodiment. The word 'Alameen' is plural of 'Alam', according to Arabic grammar, it has singular, and plural forms. If there is one, then the Alam, if there are two, then the Alamoon, and if there are more, then the Alameen. Now it is not known whether this is one, or two, or four, they are countless, this knowledge is with Allah and His chosen servants, or whoever Allah allows. As the seven Alams are mentioned in the discussion of spiritual and effective birth, some scholars believe that there are the alam of souls, world, Barzakh and destiny. They acknowledge the seven who live in the company of Allah, who governs them all. The explanation and interpretation of the words Rahman and Raheem has already been done in Bismillah Ur Rahman Raheem. That is why it is called Rahman-ud-dunya wa-akhira and that Rahim is especially for the believers. Malik Yom al-Din means the owner who has full and comprehensive authority in the empire He Himself has created, he can do what He wants and not obey anyone, He only makes decisions on the basis of his absolute sovereignty. In 384 He says, فیغفرلمن یشاءو یعذب من یشاء۔ واللہ علی کل شئی قدیر God Almighty Ali. The translation is: Then He will forgive whomever He wills, and He will punish whomever He wills. مالک یوم الدین refers to the day of the hereafter in which human actions and deeds will be accounted for. Punishment will be decided on the same day. Allah sent His Prophet the Most Merciful (peace be upon him) as a Nazir, a bearer of fear and a bearer of glad tidings. On the day when deeds will be weighed, man will know what he has done. In the Qadiria Ameenia Alaiyyah Shakuriyyah lineage, the disciple is trained step by step so that the disciple can improve his condition. Tomorrow, when he will be asked questions in the grave, he will answer them in a good way. A complete office of the movements, and actions of the mureed are prepared and indeed all this responsibility is under the power of his feet, but still the mureed must be capable. From the day when Allah created the world till the end, all the kingdom and ownership belongs to Allah alone. One lakh and twenty four thousand prophets came and their nations also came. He is Omnipotent, there is no one worthy of worship except Him. All power will be in the hands of Allah on Doomsday. We worship only Allah and ask for help from Allah alone, we are Muslims, praise be to Allah, and this shows our complete belief in one worshiping and the other asking for help. Who is it that sends down rain from the sky in famine and drought, who is it that directs the wind, who is it that keeps alive the insects that live inside the stone, Who is the food for the speechless animals and birds and the creatures of the sea? Allah who is the owner and provider of all, we all believe and keep only this Holy One for our actions. When we know that He is Allah, the Lord, the Most Beneficent, and the Master, then now our worship and obedience to Him finalizes and the path we are aiming for becomes as our lineage/footsteps. Sheltered, when you repent, He is merciful and forgives you, He will be the master on the day of judgment. We are all in need of the same Allah, so now it is our obligation to worship and obey Him, He himself says in the Qur'an. ، خلقت جن والانس الا لیعبدون۔ " He created jinn and humans only for His worship. As Hazrat Adam (peace be upon him) was told to build (Kaaba) the house of Allah, it is that the worship of Allah can be settled in this mortal world and it can be established, that is because above it is the House of Allah, where all the angels are surrounding Allah. Let's circumambulate Allah, humanity should believe in the favor of Allah that this Lord Almighty has specified us this opportunity that Hajj is an act of worship. ان الصفا و المروۃ من شعائراللہ In al-Safa wa al-Marwat from Sha'airullah. This verse refers to Hazrat Adam (peace be upon him) who is Safi Allah and Hazrat Hawa on the other hand. God Almighty is so pleased with His loved ones that He has associated His places of worship with them. When the Prophet and the Messenger obeyed His commands and spread His message with zeal, Allah the Exalted made their names obligatory upon us in the form of worship. All the Prophets who were sent to this world were told to turn towards the Kaaba, during the second construction of the Kaaba, a stone was brought down from Paradise for Hazrat Ibrahim and Hazrat Ismail (peace be upon them) upon which they stood. The Prophet (PBUH) built the House of Allah. What does the Qur'an say about this stone, Surah Al-Baqarah verse 125 And when We made this house our center for the people and a place of peace and ordered to make it the place where Abraham stood to pray and We urged Abraham and Ismail to keep my house clean and tidy for those who perform circumambulation and those who sit in Reclluse. And for those who bow and prostrate. There is a very important point in this that We made the place where Abraham stood and prayed, that Prophet who made it his position to obey Almighty Allah in every way, then worship and obey Allah and Why should it not be done? Isn't it proved by the good lives of the Prophets that how many difficulties Hazrat Musa (peace be upon him) faced? Today Pharaoh is an example of cruelty and injustice, the trouble that Noah (peace be upon him) prepared the ark for, was it not obedience, and we got everything through the charity of our Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), yet we have five prayers and Other rituals are heavy. We are still stuck in the same thing whether to earn or to intimate Allah whole night. Now the matter comes to ask Allah for help, if man could not understand it with his worshipping consistency, then how can he believe that Allah can help him or not? Most of us think that there are only people in our work as helpers, whether it is to pay the telephone bill, or if there is any other work, there is only support of people. Which is not a happy state of affairs. Western thoughts have made us feel that today advice does not affect anyone, although there is no other power in this world except Allah, but everyone has made his own god. Western thought is that people are the real power. People are Power. Allah is the livewire of all things, He gives sustenance to all. He dominates the giving of life and death, when the running of the universe is in the hands of the ONE & ONLLY, then what should there to worry about? The real problem is that everyone has become god himself. This one thing has confused the minds of the people of the world. Those who feel shy away from worshipping Allah do not fully believe in His help. Hazrat Imam al-Ghazali, in his book 'Makashifat al-Qulub مکاشفۃ القلوب', in chapter 26 titled 'Condemnation of Arrogance and Wonder', has stated that everything has supplications and prayers under which it receives sustenance. They also say 'God is God', but the satanic arrogance of human beings has destroyed the rest of their knowledge, trust and rely on themselves and their saying is that if we have done this, then we have done that. Help will be assured. It has always been observed that people forget that Allah tells them time and again و ان لیس للانسان الا ماسعی۔ ". And that for man is only that which he himself strives for. In another place, it is stated in the Holy Qur'an. Oh, those who believe, fear Allah, and seek Allah's blessings, and strive for peace. O you who believe, fear Allah and seek means to Him and strive in His way so that you may prosper. Here in this place, Wasilah Means- asking for help. It is true that it is not permissible to ask anyone other than Allah, but one can ask for help through the divine mercy and eternal knowledge.. ۔ ان اللہ بالناس لروءف الرحیم ۔ Verily, Allah is Most Compassionate and Merciful to people. Allah's essence is shining everywhere, only that man who is attached to it knows this, وانہ ھو اغنٰی و اقنٰی۔. Alllah makes rich and gives capital. Surah Al-Najm

Tuesday, 19 January 2021

Mohabat e Rasool SAW

 

سوال:: ہمیں اللہ سے کیا مانگنا چاہیے؟

جن حضرات سے میں نے سوال کیے اُنہوں نے اپنی فہم ، فراست اور علم کے مطابق جواب دیے۔ جوابات ملاحظہ فرمائیں۔

عامر بشیر اور عارف صاحب کا یک ہی جواب ہے عشق ردول صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ مکمل جواب ہے۔۔۔۔

رسلان صاحب ، ایڈمن آفیسر:- اللہ کی رحمت مانگنی چاہیے۔ا

بلاول انور صاحب ، میڈیا آفیسر:-اللہ نے ہمیں جس مقصد کے لیے زندگی عطا فرمائی ہے ہمیں وہ مقصد پورا کرنے کی توفیق مانگنی چاہیے۔

حافظ نعمان ، آر اے سی انجینئر:-تندرستی مانگنی چاہیے۔

حافظ شاہد ، فارماسسٹ :-اللہ نے قرآن میں پہلے ہی دعا بیان کردی ہے جو سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہے اھدنا الصراط المستقیم ۔۔۔۔ الضالین۔

حافظ اسد صاحب ، ایڈمن ہمیں بخشش مانگنی چاہیے۔

عاصم علی صاحب ، الیکٹریکل انجینئر- ماں باپ کی بلکہ سارے مسلمانوں کی بخشش مانگنی چاہیے، گناہوں کی معافی بھی مانگنی چاہیے۔

فاخرہ صاحبہ ،ڈائٹیشن:-ہم نیک راستہ پر چلتے رہیں اور اللہ اپنے سوا کسی اور کا محتاج نا بنائے۔

خالد صاحب، ایڈمن آفیسر:-محبوب کی اتباع، اس کے علاوہ استقامت اور توفیق مانگنی چاہیے۔

اعجاز الیاس صاحب ، کیمیکل انجینئر:-اللہ کا کرم اور فضل مانگنا چاہیے۔

عاشق صاحب ، لیکچرر میتھمیٹکس :-اللہ سے استغفار اور ایمان مانگیں، اگر وہ ولی ہے یا ولی بننے کی آرزو 

ہے تو موت مانگنی چاہیے۔

میرا جواب محبتِ رسول کریم صلی اللہ  علیہ وآلہ واصحاب وسلم ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ محبت کیا ہوتی ہے؟ جواب ہے کہ یہ دل میں ہوتی ہے۔اگر ہمیں کسی سے محبت ہے تو اس کا کوئی دلبر بھی ہوگا۔ یہ اسی سے کی جاتی ہے جو اس کو نبھانا بھی جانتا ہو۔یہ اصل میں دل کی کیفیت کا نام ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ محبت ایمان کی زندگی اور روح کی غذا ہے۔

کسی نی کیا سچ کہا ہے" محبوب کی خوبیوں میں گُم ہونے کا نام محبت ہے"۔

مُحب کی اپنی کوئی ذات نہ رہے، اُس کی ذات کی نفی ہوجائےتُو تُو نا رہے بس وہ ہوجائے۔

دل کا کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف میلان رُحجان اورلگاو محبت کہلاتا ہے۔ جب ہم پر کسی کا احسان بار بار ہو تو ہم اس سے محبت کرنا شروع کردیتے ہیں، یہ فطری بات ہے۔

اسی طرح جس طرح حافظ شاہد نے کہا کہ اھدنا الصراط المستقیم تو اس سے مراد بقول حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ یہاں تو بغیر کسی اور تشریح و توضیح کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی مانگ لیا گیا ہے۔اے اللہ ہمیں ہدایت عطا کر وہ ہدایت سیدھا رستہ تو خود آپ سرکار رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ جناب عامر بشیر، جناب عارف اور شاہد صاحبان کے جوابات کمال درجہ کے ہیں، ماشاءاللہ

قرآن پاک ایک اور جگہ رقمطراز ہے

قُل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی یحببکم اللہ۔۔۔۔۔۔

اللہ کی ذات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لب مبارک سےیہ کہلاتا ہے کہ میرے پیارے نبی آپ یہ کہہ دیں کہ جو اللہ کی محبت چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے۔لفظ اتباع کا معنی پیروی، پیچھے چلنا اور پابندی کرنا ہے۔اتباع میں ہمارا طورطریقہ اگر خوشگوار نا ہو تو عمل کرنا آسان نہیں رہتا۔

جن حضرات نے بخشش، عزت، تندرستی، گناہوں سے  معافی، فضل، کرم، قُرب، رحمت، نعمت اور توفیق مانگی ہے اُن کا اپنا نقطہ نظر ہے۔

اللہ تعالٰی نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے محبت کی ہے۔ یہ محبت کرنااللہ کی سُنت ہے۔اگر لفظِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو چار حروف اک مجموعہ ہے  ان کے معنی سمجھیں جائے تو لفظ محمد یعنی بہت تعریف کیا گیا، یہاں ذرا رُک کراس بات پہ غور کیا جائے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک تو اللہ نے اسمان میں رکھا تھا جہاں ابھی انسان نہیں تھے تو تعریف کس نے کی، یا پھر جنوں نے کی، مگر بات سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی۔ یا یھاالذین امنوصلوا علیہ وسلموا تسلیما۔ سورۃ الاحزاب-56

ترجمہ۔ اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درورد بھیجتے ہیں،مومنو تم بھی ان پر درورد و سلام بھیجا کرو۔

عربی زبان و کلام میں لفظ' یصلون' کا معنی و مطلب بھیجتے اور بھیجیتے رہیں گے کے آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے فرشتے تو یہ کام اپنائے ہوئے ہیں تبھی تو سمجھ آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی تعریف کیا گیا کیسے ہے۔ غرضیکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میم ہٹا دو تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف مطلب بنتا ہے، اگر حا کو بھی ہٹا دو تو مد رہ جاتا ہے جس کا مطلب ہمیشہ رہنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہوئے، اگرمیم بھی ہٹ گیا تو دال یعنی دلیل جو روز محشر میں اُمتی اُمتی کہنے والی صرف صرف اک ہی ذاتِ اعلٰی اولٰی ارفع ہے جن کا نام نامی سیدنا محبوبنا شفیعنا نبینا حضرت محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم ہے۔

اللہ نےا پنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیار سے پکارا اورمُخاطب کیا ہے۔ اللہ کا اپنی مخلوق سے اعلان ہے کہ میں نے تمہیں ایک بڑے حوصلہ مند، اولالعزم، صابر، شفیق،راہ مُستقیم پر چلنے والےاور سیدالبشر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سپرد کیا ہے اب تم بالکل نا گھبرانا اور یہ پیارا نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بہت چاہتا ہے، تمہاری ہر مُصیبت اس پہ بہت گراں گذرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں۔ تو ایسے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں نا ہو۔

اللہ نے خود اپنے بارے میں کہا کہ میرا صفاتی نام ظاہر ہے اور محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نُور کا مظہر ہیں۔ اور فرمان باری تعالٰی ہے' کنت کنزامخفیا'

آپ سرکار عالی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے تو ہم سارے بخش دیے جائے گے۔

اللہ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نُور کو تخلیق کیا۔جب یہ نُور مرکز سے مقام شہود پہ آیا تو اللہ نے اس کودس ہزار سال تک قُربِ خاص میں رکھا۔ اس نُور کے چار حصے کیے ایک سے عرش، دوسرے سے کرسی تیسرے سے حاملان عرش بنائے اور چوتھے کو بارہ ہزار سال تک مقام محبت میں رکھا۔اس کے باقی نوری مقامات و درجات ہیں ان کی تفصیل یہا ں بیان نہیں کی جا رہی وہ ایک الگ بحث ہے۔

علاماتِ محبتِ رسول ارم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ وہ اتباع نبوی میں اول ہوتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ کثرت سے درود و سلام بھیجتا ہے، سیرت پاک کو پڑھتا ہے اور عمل کرتا ہے، مدحت کی مخفلیں سجاتا ہے، اصحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کے ذکرو مطالعہ سے مُستفید ہوتا ہے اور اس سے محبت رکھتا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اصحابہ کرام ، اہل بیت اطہار،آئمہ کرام، علماءکرام، اولیاء اللہ اور مسلمانوں کے لیے نرم دل رکھتے اور ان کی صُحبت کو پسندکرتا ہے۔ جو لوگ محبت سے آپ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر درورد پڑھتے ہیں حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جانتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

ریحان بشیر قادری امینی علائی شکوری  

 

 


Monday, 12 October 2020

Shajra Shareef Qadria Allayia Shakooria

 
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
                 اَللہُ
ھُوَالقَادِرُ                        ھُوَالشَّکورُ                ھُوَالمعینُ        
کشَجرۃ طیّبۃ اَصلُھَا ثابتُ فَرعُھَا فِی السَّمَاء    
شجرہ طیبہ سلسلہ عالیہ قادریہؒ علائیہؒ شکوریہؒ چشتیہؒ منعمیہؒ        
حضرت سیدنا شیخ  شاہ محمد امین شاہؒ
زُہدۃ العارفین قدوۃ السالکین قطب دوراں غوث  بخطاب غیبی فخرالمتوکلین قادری علائی شکوری چشتی منعمی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ شمس العارفین الشاہ محمد علا ء الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ محمد عبدالشکورتاج الاولیاء قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ نبی رضا خان اسد جہانگیر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ فخر العارفین محمد عبدالحی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  العارفین مخلص الرحمٰن  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ امداد علی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ محمد مہدی الفاروقی القادری قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مظہر حسین  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم شاہ حسن دوست المقلب شاہ فرحت اللہ  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم شاہ حسن علی  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ مخدوم منعم پاکباز قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر خلیل الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر جعفر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر اہل اللہ قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر نظام الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر تقی الدین  قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر نصیر الدین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر محمود قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ میر فضل اللہ عرف کسائین قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ قطب الدین بینائے دل قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ نجم الدین قلندر قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  بن مبارک غزنوی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  الشیوخ شہاب الدین سہروردی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ  محبوب سبحانی عبد القادرالجیلانی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو سعید بن مبارک مخزومی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو الحسن علی الھنکاری الغزنوی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابویوسف طرطوسی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ رحیم الدین عیاض قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ سری سقطی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا شیخ معروف کرخی قدس اللہ سرہ العزیز
حضرت سیدنا امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام
حضرت سیدنا امام موسٰی کاظم علیہ السلام
حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام
حضرت سیدنا امام  محمد باقر علیہ السلام
حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام
حضرت قرۃ عینی رسول الثقلین سیدنا امام حسین علیہ السلام
حضرت سیدنا اسد اللہ غالب علی بن ابی طالب علیہ السلام
آقائے دو جہاں حضرت احمد مجتبٰی محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم
 

Thursday, 26 December 2019

Bait kya hai


سوال ہے کہ کیا بیعت ہونا ضروری ہے؟
پہلی تو بات یہ کہ لفظ بیعت کا معنی کیا ہے۔ یہ لفظ بیع سے ہے جس کا مطلب بیچنا اور تجارت ہے کہ تم نے جنت کے حصول کے لیے اللہ کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔
صوفیاء اور اولیاء اللہ کے نزدیک اس بیعت کا مطلب اللہ والوں سے نسبت، نفس کی اصلاح اور خدمت شیخ ہے یہ ایک مستحب عمل ہےاس میں انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اس راہ کو پکڑنا انسان کے اپنے اختیار اور مرضی سے ہے۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ جب حضور ﷺ ہیں تو پھر پیر کی بیعت کا کیا وجود؟ کچھ کا کہنا ہے کہ پیر غوث اعظم ہمارے پیر ہیں، کچھ غریب نوازکو اپنا راہبر مانتے ہیں کہ اب ہمیں بیعت کی کوئی ضرورت نہیں۔
بعض علماء کرام بخاری اور مسلم کی احادیث سے بات ثابت کرتے ہیں کہ جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے دی وہ بچ یا۔ اہل حق کا معاملہ ذرا مختلف  ہے ان کو کسی راہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھ کے بغیر نادیدہ منزل کو پار کرنا دشوار ہوتا ہے۔ پیر کے بغیر کون طریقت کی باتیں اشکار کرے۔ بیعت کر لینا طریقت میں داخل ہونا ہے۔ خودبخود اصلاح ہوجائے تو ااور کیا چاہیے۔ یہ راہ اصل میں راہ باطن ہے۔ ہم لوگ علم ظاہر پہ یقین کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔
ستر برس رات جاگ کر عبادت کی اور دن میں روزے رکھ کر دیکھ لیےتو مقام نہیں ملتا۔ کیوں کیا عبادت بے وجہ تھی؟ کیا نماز نہیں آتی تھی؟ کیا روزہ کی سمجھ بوجھ نا تھی۔ سب کچھ تھا مگر ایک بات جو اہم نکتہ ہےکہ علم باطن کی روشنی ہے وہ میسر نا تھی۔ یہ علم باطن کوئی عام بات نہیں جو ہر ایک کا حصہ ہو یا چھین کر حاصل ہوجائے۔ یہ بچوں کا کھیل تماشہ نہیں ہے۔اس میں شیخ کی ضرورت ہوتی ہے جو راہ بتائے، راہ کی پہچان بھی بتائے، راہ پہ بھی چلائے، جو راہ میں مشکل آئے تو اس کا حل بھی بتائے یعنی اللہ کی راہ سے ڈولنے نا دے۔ دل کو نکھارتا رہے، نظر کرتا رہے اور رعایت دلاتا رہے ایک مکمل رول ماڈل ہو۔ پیر و مُرشد کے بغیر عبادت روح کونہیں پہنچتی اس کی عبادت کو اس کا اپنا نفس کھا جاتا ہے۔ مراد کیا ہوئی کہ بعداز عبادت نفس شیطان کے ایسا حملہ آور ہوتا ہے کہ انسان سنبھل نہیں سکتا۔ اگر فرد کوراستہ میں کوئی مشکل اتی ہے تو مرشد اپنی جدوجہد اور مشاہدہ کی مدد سے اس کا مسئلہ حل کرتا ہے۔ پیر ہی اس معاملے میں راہنمائی کرتا اور فرد کو بتاتا ہےکہ اب اندر کی طہارت کیسے کی جائے۔
قرآن مجید میں ہے
فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔
سوال کرو اہل ذکر سے اگر تم نہیں جانتے۔
اھل ذکر ہی اھل علم ہیں ان سے سوال کرو یہ تمہیں حل بتائیں گے۔ قلبی ذکر والے جن کے دل کی دنیا آباد ہے۔ وہ علم باطن رکھتے ہیں ان کو تقوٰی اور احسان مل گیا ہے۔ وہ باعمل اور صاحب معرفت ہوچکے ہیں۔ پوچھو ان ذکر والوں سےجگر والوں سے نور والوں سے وہ ہی بتائیں گے کہ مقبول عبادت کیا ہے۔
اصل میں ایک عام آدمی سوچ تو بلند رکھتا ہے مگر عمل میں اتنا بلند نہیں ہوتا یہی سمجھتا ہے کہ شاید یہ رابطے عبادتیں کسی اور کا مخلوق کا کام ہوگا، وہ اپنی کم فہمی ہی میں مارا جاتاہے۔ جو خود اُڑتا ہے وہ کہیں نہیں اُڑتااور جس کو اس کا پیر اڑائے وہ خوب اڑتا ہے۔ پیر پہنچ والے رسائی والے لوگ ہیں۔ ان کی عبادت و ریاضت ان کا ذکر ان کا فکر ان کو اللہ کے بہت قریب کر دیتا ہے۔ یہ عطائی لوگ ہیں جن کو رب کی بارگاہ سے ایک خاص فیض حاصل ہوتا ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو اللہ تک نا جا سکا تو اس لیے کہ اس نے راہ اختیار ہی نہیں کی، نا تو اس کی تلاش تھی نا اس کو اس کی کوئی پہچان تھی اور پہچان بھی کیا کرتا اس کا ایمان مکمل نا تھااور اس سب کی بڑی وجہ کیا ہے کہ اس نے کسی مرد حق سے غوض و غایت نا رکھی۔
علم ظاہر کے لیے ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو جو راہ ہی اللہ کی طرف جاتی ہے وہ بہت آسان ہوگی جس راہ میں شیطان گھات لگائے بیٹھا ہو جہاں دھوکے باز بہلانے پھسلانے والا نفس ہو وہاں کوائی تمہاری راہنمائی ا کرے تو کیا تم اتنے ہوشیار ہو محتاط ہو کہ ان کے فریب سے بچ جاو۔ جب بھی تم کوئی اچھا کام کرو تہ شیطان راستے میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیتا ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ تو اس حد تک فرماتے ہیں کہ تم جس شخص کو ارادت میں لانا چاہتے ہواس کو ایک سال پرکھو اور اگر ثابت قدم ہو تو مرید کرو اور دوسری صورت میں انکار کردو۔ جب ارادت کا راہزن شیطان ہے تو وہ کب چاہے گا کہ آدمی اصل اللہ اس کے رسول مقبولﷺ کے راستہ میں کامیابی لے کر دوسروں کے دلوں کو بھی گرماتا پھرے۔
دیکھو! جب کہا جاتا ہے کہ علم باطن میں پیر کی ضرورت ہے تو یہاں تربیت کا نکتہ آ جاتا ہے۔یہاں ایک بڑا اہم واقعہ کہیں بیان سے رہ نا جائے اس کا بیان بھی ضروری ہے تاکہ سلسلہ کے مریدین اچھی طرح سمجھ جائے۔ مریدکے کے ہی رہنے والے ایک بزرگ صفدر شاہ صاحب علیہ ا لرحمۃ ایک بڑے مرتاض ولی کامل ہوئے ہیں، ان ہی بابت بیان کرتا ہوں کہ وہ پہلے ایک بزرگ اکرم شاہؒ کے مرید و خلیفہ ہوئے مگر آپ سرکار کی عبادت و ریاضت بلند درجہ کی تھی تو اللہ تعالٰی کی ذات نے ان کو اس صدی کے معروف و مشہور بزرگ حضرت شاہِ شکور تاج الاولیاءؒ کی ان کو خواب میں زیارت کرائی۔ حضرت نے ان کو اپنا مرید کرلیا کافی دیر یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ پھرحکم ہوا کہ اب کسی کے ظاہری مرید بھی ہوجاو کہ جو معاملات کی درستگی کرے۔ تو پھر حضرت شاہ شکور کے فرزند عالی حضرت علاءالدینؒ کے دست حق پرست پہ آپ سرکار نا صرف بیعت ہوئے بلکہ آپ کو خلافت سے بھی نوازا گیا۔ لہٰذا کسی کا ظاہری بیعت ضروری ہوتا ہے اور یہ واقعہ بہت پرانا نہیں 1955 اور 1966 کے درمیان کا ہے۔ حضرت صفدر شاہ ؒ کا مزار اطہر مریدکے منڈی کے قریب ہے اور وہاں سے اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کے لیے روحانی تجلیاں بانٹتے ہیں۔  
 سلسلہ عالیہ قادریہ علائیہ شکوریہ چشتیہ میں ذکر خفی کی تعلیم دی جاتی ہے یہ ذکر خفی علوم اسرار سے پُر ہے جب مرید اس کی باقاعدہ مشق کرتا ہے تو اس کو کئی طرح کی باتیں بلحاظ اس کے عمل کے اس کو پیش آتی ہیں ان سب کا احاطہ پیر ہی کرتا ہے۔یہ معاملے دل کی آنکھ سے حل ہوتے ہیں اس میں سر کی آنکھ کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ پیر اپنے مرید کو راہِ حق دکھاتا اور پہچان کرواتا ہے۔ اس کے عقائد کو درست کرتا ہے اور سب سے بڑی بات کے مرید کی پہنچ اور طاقت کے مطابق ہی سبق دیتا ہے۔
کھا تیر کسی دیاں نظراں دا
تینوں عشق کمانا آ جاوے
پیر کی نظر کیمیا سے مرید مجاہدے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پیر صاحب کے پاس جاتے ہیں تو سکون بہت ملتا ہے یہی تو وہ روحانی کیفیت ہے جو فیض کہلاتی ہے۔ شیخ کے پاس جا کر مرید کو محنت کم اور فیض زیادہ حاصل ہوتا ہے، اس کا کام بن جاتا ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جو اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ بے شعورے اس کو کس طرح سمجھے وہ تو دولت کو ہی دین بیعت فیض اللہ کا کرم احسان مانتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جس نے بچوں کے لیے مکان نا بنایا اس نے غلط کیا وہ پاجی ہے سست ہے کام نہیں کرنا چاہتا سارا دن فارغ رہتا ہے۔ ارے نادانوں تمہیں کیا معلوم ہو کہ معرفت اللہ کیا ہے حالانکہ اسی میں تمہاری زندگی گزر جاتی ہے لیکن تمہیں کچھ وقوف نہیں۔
یہ تو وہ ہستیاں ہیں کہ جن کا جلیس با نصیب ہوتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ کسی کا بیعت نا ہوجانا کہیں تم سست روی کا شکار نا ہوجاو۔ تو جواب دو کہ آپ سرکار دو عالمﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کیوں کیا اور اسی طرح یہ سلسلہ تو آج بھی قائم و دائم ہے۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن علیہ السلا م کو کیا ضرورت تھی کہ وہ بیعت کا کام کرتے اس کے بعد کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید لعین کی بیعت کیوں نا کرلی، ارے نافرمانوں یہ بیعت رسولی ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
ایک بیعت رضوان ہے جس میں دو نوروں والے کی بیعت لی جارہی ہے۔ بتاو کہ کیا نور والے کو بھی بیعت کی حاجت رہتی ہے۔ حضرت عثمان غنی کا نکاح پاک تو سیدنا و محبوبنا سید المرسلین ﷺ کی دو بیٹیوں سے ہوا تھا۔ وہ تو کہلاتے ہی ذوالنورین تھے۔ پتا چلا کہ یہ سُنت مُصطفٰی ﷺ ہے کہ بیعت کی جائے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ارشاد کے بعد حکم ہوا کہ دو زانو ہوکر بیعت کرلو۔
حضرت امام بن حنبلؒ اکثر حضرت بشر حافیؒ کو ملنے جاتے تو ان کے لوگ پوچھتے کہ آپ توخود عالم ہیں امام صاحب نے جواب دیا کہ کتاب اللہ کا عالم ہوں اور حضرت بشرؒ عالم باللہ ہیں۔ میں تو کہتا ہوں بیان کرتا ہوں تو یہ اس کو براہراست دیکھتے اور اس تک خوب رسائی رکھتے ہیں۔
اللہ نے ان برگزیدہ ہستیوں کے ذکر کو ان ہیکے چہروں اور ماتھوں پہ سجارکھا ہے، ان کے دمکتے روشن اور پُر رونق رُخ اس بات کی ضمانت ہے کہ ان کو دیکھ کر ہمیں اللہ یاد آجاتا ہے۔
جاہل علماء نے امت کے ضمیر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں کہ بیعت کی ضرورت نہیں۔ یہ علماء نہیں علامے ہیں وہ پنجابی عورتیں کہتیں ہیں نی میں تینوں دسا تیرا منڈا نرا علامہ ہیگا اے۔
سورۃ فتح آیت 10 میں ارشاد باری تعالٰی ہے کسی انسان کا نہیں ہے۔
ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ۔ یداللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفی بما عھد علیہ اللہ فسیوتیہ اجرا عظیما۔
ترجمہ۔ جو لوگ آپﷺ سے بیعت کررہے ہیں تو وہ واقعی اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا یاتھ ان کے ہاتھوں پہ ہے۔ پھر بعد بیعت جو شخص عہد توڑے گاسو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گااور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا اس کے لیے اجر عظیم ہے۔
اللہ مسبب الاسباب ہے وہ انسان کے لیے تحت الاسباب تو اس کو عنائت کرتا ہی ہے اور اس کے علاوہ فوق الاسباب کسی کی نظر کے تحت عطا کرتا ہے۔  
ان ہی اھل ذکر کے بارے میں ارشاد ہے
یا ایھا الذین امنوااتقواللہ وکونوا مع الصادقین۔
اے ایمان والو اللہ سے ڈرواور صادق لوگوں کے ساتھ ہوجاو۔
یہاں ساتھ ہونا بیعت ہونا ہے۔ ایک اور جگہ پر پیران پیر حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی المعروف غوث اعظمؒ فرماتے ہیں۔
عادت الٰہی اس بات پر جاری ہےکہ اس دنیا میں ایک پیر ہو اور ایک اس کا مرید ہو۔ ایک پیشوا ہو ایک پیروکار ہو۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری  رہے گا۔ اللہ اور بندے کے درمیان پیر کا مقام برزخ کا سا ہوتا ہے۔ راستہ طے کروانے والا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم بیعت کے معاملے کو سمجھ جائے۔ باقی باتیں تو اللہ اور رسول کریمﷺ اور مرشد امین رحمۃ علیہ ہی جانتے ہیں۔
والسلام ریحان امین قادری امینی علائی شکوری چشتیؒ

Monday, 20 May 2019

Kalma awwal


زیر با فیضان نگاہ حضرت شاہ محمد امین شاہؒ
کلمہ سیریز
افضل الذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کلمہ اول کی ادائیگی کے لیے دو زانو(تشہد کی صورت) بیٹھنا ہوتا ہے۔ جو اصل میں آئینہ محمدﷺ کی ہی نقل ہے۔ ذاکر کا سر میم گردن سے کمر تک حا اور پھر کمر میم ثانی اور کمر سے نیچے کا دھڑ دال خیال کرے، وہ اس لیے کہ لفظ محمد ہی ہر انسان کی عین اور اصل حقیقت ہے۔
سچے ذاکر کو یہ بات جاننی چاہیے کہ تمام نصیبوں، قسمتوں اور کُل خزائن، علم و حکمت اللہ کی چابی کلمہ میں ہے۔
جب یہ کلمہ حق جسم میں سرایت کرنے لگتا ہےتو اس ذاکر کو اس سے محبت اور لگاو ہونے لگتا ہے اس کی ایک نشانی یہ کہ ذاکر اس کی سنگت اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔
اگر ذاکر جھوٹا ہو تو اس کا جسم اس کے اہل نہ پا کر اس سے چھین لیاجاتا ہے۔ہمیشہ خلوص نیت سے اس کو ادا کرنا ہر سچے ذاکر کا طریقہ ہو۔ ورنہ وہ رحمت خداوندی سے منکر ہوجاتا ہے، یعنی شکایت و شکوہ کا شکار رہتا ہے۔
جن ذاکروں کو اپنے نفس پہ قابو نہیں یا جو تیز طبیعت ہیں کلمہ کے ذکر کریں تو ان کا ذکر طوطے کی رٹ کے سوا کچھ نہیں۔ اددھر کلمہ ادا کیا تو نفس تھک جاتا اور دوسری فرمائشیں کرتا ہے، یعنی اللہ کی عبادت کی طرف رجوع کم ہوتا ہے۔
ایسے ذاکرین جو کلمہ طیبہ کو افضل عبادت جانتے ہیں ان کا باطن اللہ سے جڑ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ایسے ذاکرین ظاہری علم بمعہ منطق و معانی بغیر وسیلہ پڑھ لیتا ہےاور ان کو کسی کے پاس جانے کی حاجت نہیں رہتی۔
یہ کلمہ سورج کی مانند ہے جس کی طلوع و تاثیراپنے ذاکر کو روشن ضمیر بنا دیتی ہے۔ روشن ضمیر کو ہی اللہ اور اس کا قرب ملتا ہے۔

Thursday, 2 May 2019

ALLAH 's ANGER ? FOR WHAT REASON


زیر با فیضان نگاہ اعلٰحضرت شاہ محمد امین شاہ صاحب قادری علائی شکوری چشتی منعمی رحمۃ اللہ علیہ
سوال: اللہ انسان سے کب ناراض ہوتا ہے  رزق چھین لے یا ذلیل کردیتا ہے؟
جواب: میں نے یہ سوال اپنے جاننے والے دوست احباب ، بزرگوں اور واقفیت والوں سے کیے جن کے مجھے مختلف جوابات ملے۔ اکثریت کا جواب ہے کہ جب اللہ تعالٰی کی ذات با برکات انسان کو ذلت دیتی ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ اب ہم سے ناراض ہے۔
اگر یہ ہی سوال کسی غیرمسلم سے کیا جائے تو وہ اس سلسلے میں کیا جواب دے گا کہ قرآن کریم کی پہلی سورۃ الحمد شریف کے آخر میں جن کو والضالین کہا گیا گیا ہے۔ تو جب کسی ایسے شخص کو جو کہ اسلامی لاء آف کنڈکٹ کے مطابق ذلیل ہےسے اس بات کو دریافت کیا جائے تو شاید وہ کہے کہ یہ اللہ کے کام ہیں۔ جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نا دے۔ یا اس سے کوئی الگ جواب بھی ہوسکتا ہے۔
وہ اس کا جواب اگر انجیل یا توریت یا زبور کے مطابق دے گا ، اگر اصل جلد کا مطالعہ ہو تو، وہ وہی کہے گا جو کہ عین قرآن کا جواب ہے۔
اگر یہ سوال یوں ہوتا کہ  " اللہ انسان سے کن کن باتوں کی بنا پہ ناراض ہوتا ہے " مگر اس میں دو ہی باتوں ' رزق اور ذلت 'سے اس کا دائرہ کار محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔  
اس سوال میں کچھ ایسے نکات ہیں اور جب ان کی حقیقت جان نہ لی جائے تو بات کو سمجھنا دشوار ہے۔ اس میں پانچ پوائنٹ جن میں اللہ۔ انسان، رزق۔ ذلت اور ناراضی ہے، البتٰہ ناراض ہونے کا ذلت سے تعلق بنتا نظر آتا ہے۔
لفظ ' اللہ ' اپنی یگانگی میں بے مثل، ہکتا، بے شبہ اور نے نمونہ ہہے۔ قرآن کریم میں ارشاد بار تعالٰی ہے، قل ھو اللہ احد جس کا ترجمہ کہہ دو اللہ ایک ہے۔
اللہ کے باقی صفاتی ناموں میں شائبہ کا عنصر ملتا ہےمگر لفظ اللہ سے جو اس کا ذاتی نام ہے اس میں کسی قسم کا شائبہ یا استدراج ظاہر نہیں ہوتا۔ اس لفظ اللہ کو اللہ ہی نے چار حروف سے بنایا ہے۔ یعنی الف، لام ، لام اور حا سے۔ اگر ہم الف کو گرا دیں تو للہ رہ جاتا ہے، دوسری صورت میں لام بھی نہ ہوتو لہ اور ایک اور لام بھی نہ ہوتو ہ رہ جاتا ہے۔ یہ چہار اسم اعظم اس کے ذاتی نام ہیں۔۔ اللہ، للہ، لہ اور ھو۔ آیت الکرسی کا آغاز بھی تو اللہ لا الہ ال ھو الحی القیوم سے ہوتا ہے۔ کلمہ افضل بھی لا الہ الا اللہ سے ہی شروع ہوتا ہے۔
اللہ کے نام اور ذات کو تو فنا ہی نہیں کیونکہ وہی اس جگ اور جگت کو بنانے والا ہے۔ اللہ کی تشریح تو صرف اور صرف آپ سرکار دوعالم نور  مجسم ﷺ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ آپ سرکارﷺ ہی اللہ کے ہم راز ہیں۔ انسان کو اللہ نے ہی اپنا خلیفہ الارض بنایا ہے اس لیے تین ایسی باتیں ہیں جن کی بنیاد پہ ہم اللہ کوزیادہ نہیں تو تھوڑا جان سکتے ہیں۔ اگر اس نے خالی جہان ہی بنادیا ہوتا، تو علم نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنا ارادہ نہ  باندھ پاتے۔ارداہ نہ ہونے سے ہم اس کی قدرت کا اظہارکو دیکھ اور سمجھ نا سکتے۔
علم کے معنی ہیں جاننا اور اس جان پہچان کا ایک ارادہ اور مقصد بھی ہوتا ہے۔ اسی علم کے ساتھ ایک اور لفظ ادراک ہے جس میں ہم اپنے ہوش و حواس کی مدد سے اردگرد کے ماحول کو پہچان پاتے ہیں۔ انسان کو پہلے چیزوں کا ادراک ہی ہوا تھا، وہ ان تمام باتوں کا علم بعد میں کر پایا۔انسانی علم کی بنیاد مشاہدے، سماع، بصارت اور قیاس پہ مبنی ہے۔ قرآن اس کی سب سے بڑی مثال ہے، اس کے حروف انسان کے علم و قیاس سے کہیں بلندوبالا ہیں۔ انسان نے جو علم حاصل کیا ہے اس کے لیے اس کا اپنا کہنا ہے کہ وجود کا ہونا ضروری بات ہے۔ انان کے علم نے جب اپنے گردوپیش وجودیت کو فطرت اور قدرت کی شکل میں دیکھا تو اس کو چھو کر، محسوس کرکے، سُن کر اور دیکھ کر یقین کیا۔ ابھی بھی موجودہ سائنس  کوشش یکراں میں ہے کہ اس کا یقین اللہ اور اس کی الوہیت پہ مکمل ہوجائے، جو کچھ اللہ نے بنیا ہے وہ انسان پہ ثابت ہو جائے اور وہ اپنی تحقیق بند کردے، مگر یہ تو لامحدود بات ہے۔
سائنس ہی کا کہنا ہے کہ ہم ایک چھوٹے سے سیارے زمین پہ رہتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی آٹھ سورج ان کے زیرمطالعہ ہیں ان میں سے جو سب سے بڑا سورج ہے اس کا نام انٹارس بتایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا سورج ایک نقطے کی مانند ہےتو پھر ہماری زمین کی کیا حیثیت ہوگی۔
وہ رب العالمین ہے یعنی بہت سارے جہانوں کا رب۔ اس کا علم تو اس کائنات کے وجود سے پہلے بھی مسلم ہی تھا اللہ نے سب سے پہلے حضور پاکﷺ کے نور کو محمد رسول اللہ کے نام نامی سے مخاطب کیا تو آپ سرکار عالی رحمۃ العالمینﷺ کا نور جلوہ گر ہوا اور نورتجلٰی نے کہا لا الہ الا اللہ ، سُبحان اللہ۔ پھر بعد میں تمام انبیاء، اصحابہ، آئمہ، اولیاء، شہداء، صدیقین ، صالحین، مقبولین، ابدال، قطب، غوث اور مقربین کی ارواح کو پیدا کیا گیا۔ سب سے وعدہ لیا گیا کہ میں اللہ تمہارا رب اور یہ میرے پیارے رسول ہیں جو ان کے صراط مستقیم پہ چلے گا وہی میرا قرب لے سکے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ جو قانون اور اس پہ لائحہ عمل حضور انور ﷺ نے دیا وہی سب کچھ ہےجس کے تحت ہم فرمانبرداروں میں گنے جا سکتے ہیں، اللہ ہم سے راضی ہے۔
اللہ کے نزدیک جو بات کھلی اور عیاں وہی بات ہمارے لیے پردہ میں اور مخفی ہےوہ تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کیونکہ اسی نے تو یہ تمام چیزیں بنائی ہیں اس کو تو کوئی عار ہی نہیں۔  مثال کے طور پہ ایک بڑھئی نے ایک میز بنایا ہو تو وہ ہی جانتا ہے کہ اس کی بناوٹ میں اس نے سامان اکٹھا کیا اور اس کو کس کس جگہ سے مواد ملا۔ یہ باتیں خریدنے والے اور استعمال کرنیوالے کے لیے خفیہ ہیں۔ وہ تو اللہ ہے تمام جہانوں کا پروردگار، واحد، یکتا۔
انما امرہ اذا ارادا شیئا ان یقول لہ کن فیکون۔
اس کے حکم کے سامنے کسی کو بھی فنا نہیں ہے، چاہے مادہ ہو یا روح۔ آپ حیران ہونگے کہ روح کو کس طرح فنا ہے وہ تو باقی رہنے والی ہے، جس طرح کے قبر میں جسم میں جب جان ڈالی جاتی ہے تو اس شخص کی روح اس کو واپس لوٹا دی جاتی ہے۔ میدان حشر میں ندائے غیبی دی جائے گی۔  لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار
اللہ ہی واحد و قھار ہے اس کے علاوہ ہر ایک چیز کو فنا حاصل ہے۔ جسم دنیاوی اور روح آخرت کے لیے ہے۔ لا الہ الا اللہ نے جب ہر چیز کی نفی کردی تو تمام موجودات بھی فنا ہوگئے۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اپنے ایک کلام میں رقمطراز ہیں، آپ فرماتے ہیں
من نیم واللہ یارا من نیم
سرسرم جان جاناں من نیم
میں نہیں ہوں اے دوست اللہ کی قسم میں نہیں ، میں تو اللہ کے ایک راز میں سے ہوں میں نہیں ہوں۔ میرا جسم کوئی وجود اور حیثیت نہیں رکھتامیری کوئی ذات نہیں میں تو ایک راز کا راز اور روح کی روح ہوں میں تو امر ربی سے ہوں وہ جب چاہے مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر حکم ہے تو میرے اللہ کا ہے۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے اس بات کی پوری وضاحت کردی کہ انسان کی اپنی کوئی بات بھی نہیں ایک اور صوفی بزرگ حضرت شاہ حسینؒ فرماتے ہیں
توئیو تانا تے توئیو بانا روم روم وچ تُو
کہے حسین فقیر سائیں دا میں نا ہی سب تُو
اللہ ہی اندراور اللہ ہی باہر ہے وہ خود ہی سب طرف جلوہ گر ہے۔ اس کے حکم کے  بغیر کوئی ساکت حرکت نہیں کرسکتا اور نا رک سکتا ہے، ہاں یہ بات الگ ہے کہ اس کی کریمی، مہربانیاں اور رحمت بے پایاں ہے عدم سے لے کر اب تک اس کی عطا کی بارش بند نہیں ہہوئی۔
اب بات آتی ہے کہ انسان کی کیا حیثیت ہے۔ انسان کیا ہے اور کہاں سے اس کا وجود بنایا گیا۔ انسان کا وجود ممکنات میں سے ہے، وہ اپنے  وجود میں اللہ کی نعمت کا محتاج ہےانسان کو عدم سے وجود میں لایا گیا ہے، یہ عدم بھی ختم ہو کر رہ جاتا ہے جب صدا لگتی ہے لا الہ یہ انسان اور موجودات کا مقام ہے۔ عدم کیا ہے؟ یہ آئینہ ہے اللہ کا راز ہے اللہ کا، اللہ نے اپنی قدرت کے لیے انسان کو پیدا کیا اور اسے مقام لا الہ دیا، اور جب شروع ہوا الا اللہ تو اللہ ہی ہم میں سما گیا اب اس مقام کے بعد انسان کی کوئی حیثیت تھی بھی تو وہ بھی نابود ہوگئی اب رہ گیا تو صرف اللہ۔
جس نے اس کلمے کے رازوں کو جان لیا وہ نا تہ رزق کے معاملے پہ کوئی لب کشائی کرتا ہے نہ ہی جھگڑتا ہے اس کو معلوم ہے کہ اللہ ہی ہے جس نے اس کائنات کو کھیل کے لیے رچایا ہےورنہ انسان کی حقیقت ایک ذرے سے بھی کم ہے،
مولانا رومی نے کیا خوب کہا ہے
گفتہ او گفتہ اللہ بود
اگرچہ از حلقوم عبداللہ  بود
اللہ تعالٰی کی ذات کریم کہتی ہے جس نے مجھے پالیا تو اس کے میں کان بن جاتا ہوں، آنکھیں ہاتھ بن جاتا ہوں صرف میری قوت اس کو سہارا دیتی ہے۔

انسان کی  حقیقت کا مقام ہی لا الہ ہے انسان جب اس دنیا میں اپنی کھولتا ہے تو وہ اپنے گردوپیش کو اپنی آرزو، خواہش، تمنا،ارادے اور نیت کے عین مطابق دیکھنا پسند کرتا ہے، بعض افراد تو اپنی آرزو کے حصول کے لیے سرتوڑ کوشش بھی کرتے ہیں جن میں عمارت، خوبصورت بیوی، بنک بیلنس اور مستحکم کاروبار شامل ہے۔ اگرہم نواسہ رسول اکرمﷺ حضرت امام حسین علیہ السلام کا کربلہ کا واقعہ دیکھتے ہیں تو حضور نے تو اپنے سارے خاندان اور احباب ، مال، مکان اور کسی کی بھی پرواہ نہ کی۔ آپ طاغوتی قوتوں سے جا ٹکرائے اور بہت سے مصائب کا سامنا کرتے اپنی جان اللہ کے دین کی خاطر قربان کر ڈالی۔
حضرت امام علیہ السلام اگر اپنے تصرفات،امامت اور ولایت سے کام لیتے تو اس کربلہ کے مقام کو گلستان میں نا بدل دیتے۔ ثابت یہ کرنا تھا کہ جو اللہ نے عطا کیا ہے وہ سب اسی پہ اسی کی راہ میں نثار کردو۔ یہ ہے سبق جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے مما رزقنھم ینفقون۔ جو ہم ان کو رز ق دیتے ہیں وہ اسی میں سے خرچ کرتے ہیں۔
حضرت امام علیہ السلام نے تسلیم و رضا کے مقام سے بھی بڑھکر ایسی بلند وبالا مثال قائم کردی کہ مقام رضا بھی پیچھے رہ گیا۔ جب انسان کو کسی بات پر اختیار نہیں تو اس پہ صبر و شکر کرلیتا ہے، اس میں اس کام کو کرنے کی قوت نہیں تو وہ آقا و مولٰی کے سامنے سر خم تسلیم کر دے۔مگر ساری قوت ہوتے ہوئے بھی جب مالک کی ساری ملک اس کی راہ میں قربان کر ڈالی تو وہ مقام عبدیت ہے۔
اللہ نے انسان یعنی ہم لوگوں کو تو ایسی صعوبتوں میں ڈالا ہی نہیں کہ وہ ایسے غم سے گزرے اللہ انہی بندگان با صفا سےراضی ہے جو اس کی راہ میں انکساروعاجزی اور ملوث کے ساتھ رہتے ہیں۔ سورۃ کوثر اس بات کی کھلے عام غماز ہے۔ انا اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالبتر۔ بے شک کہ ہم نے آپﷺ کو کوثر عطا کی اپنے رب کی نماز پڑھاکریں اور قربانی کیا کریں اور بے شک تمہارا دشمن ابتر ہے۔ اب یہاں ایک عطا دوسرا نماز تیسرا قربانی اور چوتھا دشمن کی شکست کا کہا گیا ہے۔ نماز کو تو اللہ کی حاضری کہتے ہیں تو پھر یہ قربانی کا آنا کسی آپسی تال میل کو ظاہر نہیں کرتا،۔نماز کے ذکر کے بعد قربانی یہ کس طرح ہے؟
جو لوگ ہر روز پانچ وقت اس کے دربار میں جاتے اور اپنی حاضری لگواتے ہیں وہی اس کے قریب ہیں، وہ اللہ کے قرب کے صدقے چُن لیے جاتے اور پھر ایسے لوگوں کا قیام، رکوع ،سجدہ، تشہد اور سلام صرف اللہ کی رضا، خوشنودی، حصول قرب کے لیے ہونہ کہ دنیاوی غرض و غایت درکار ہو، ان کا جینا مرنا بلکہ ایک ایک لمحہ اس رب کائنات کے لیے ہو اپنا کوئی نہ پیسہ ہے نہ مکان نہ مال نہ جائیداد اور حتٰی کہ جان کی بھی پرواہ نہ ہو تو وہ کیوں نہ شاہوں میں شمار ہوں۔ وہ پھر اگر شاہ امین شاہ کہلائے تو اس میں کونسی شک کی بات ہے، جو لوگ کہ اپنی زمین جو انہوں نے دین کی خدمت کے لیے خریدی مگر دنیاداروں کی بھیڑ چال کو دیکھ کر ان ہی کو دان کردی، اپنا نام اب مٹنے کو ہے، ایک عامۃ الناس قبرستان میں سوئے ہیں، ایسی ہستیوں کو لاکھوں، کڑوڑوں، اربوں کھربوں اور ان گنت سلام۔
قرآن کریم کی ایک سورۃ العنکبوت میں ارشاد ربانی ہے۔
والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا، ان اللہ لمع المحسنین۔
اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد(کوشش کرتے ہیں) ہم انہیں اپنی راہیں بتادیتے ہیں۔
ایک اور جگہ اللہ والوں کا ذکر کرتے چلیں جن سے اللہ راضی ہے۔
رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔
اللہ تعالٰی کی ذات بھی ان ہی کو چن کر ان سے قربان کرنے کو کہتی ہے کہ جو تمہارا ہے وہ ہمارا ہے تم اس کے دعوے دار نہیں ہو وہ اللہ کے اس پیغام کو بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ ایسی حقیقتوں سے پردہ ان ہی لوگوں کا اٹھتا ہہے جو عمل کے غازی ہیں نہ کہ چار کتابیں پڑھ کر یا کسی کے علم کی جاسوسی کرکے یہ کام کرلیا جائے۔
اکثر لوگ یہ بات پوچھتے ہیں کہ ہمیں تو رب نہیں ملا ہمارا کام روزگار بھی ایسے ہچکولے کھا رہا ہے۔ کب ہماری مدد ہوگی؟ کب ہم اپنا مکان بنا پائے گے ؟ کب اپنے بچوں کا اچھا رشتہ کر پائے گے؟ مزید شکایتی انداز میں کہتے ہیں کہ چلیے صاحب ہمارا تو گزارہ ہوگیا اب ہم اپنے بچوں کا کیا جواب دیں وہ تو اس دوڑ میں ہمارے ساتھ نہ پسے۔
اس بات کا جواب یہ ہے کہ کیا تم نے وہ ذوق و شوق والی نماز ادا کی؟ کیا تم نے رب سے جی لگایا؟ کیا تم نے کبھی سوچا کہ مر کر اسی کے پاس لوٹنا ہے؟ تمہاری نیکی یہ تھوڑی ہے کہ تم کسی کو کچھ نہیں کہتے مان لیتے ہیں کہ تم بہت سادہ دل ہو کسی کی غیبت نہیں کرتےکسی سے اوٹ پٹنگ ملتے نہیں ہر وقت مراقبہ میں رہتے ہو ، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ تم گوشہ نشین ہو، تو صاحب سُن لیجیے یہ راہبوں کی سی زندگی نہیں چلتی۔ اسلام نے ایسی زندگی سے منع کیا ہے، جو کُل کائناتوں کا مالک ہے جب تم اس کے سامنے اپنا سر نہ جھکاو گے تو وہ فرشتوں کو کس طرح جتلائے کہ یہ میرا عابد ہے۔ اسلام کے آنے سے پہلے کے عیسائی راہب بھی بہت پارسا تھے ان میں سے کافی اپنے نفس کو قابو میں رکھتے، ان کے پاس انجیل، زبور اور توریت کا علم تھا، ان کو پچھاڑنا اور ان سے مذاکرہ علمی ایک دشوار گذار کام تھا۔
حضور سیدنا محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد نے ہر گُچھی سلجھا دی۔ سُبحان اللہ آپﷺ کے جلووں نے دنیا کی گرد کو مٹا ڈالا۔ آپﷺ نے اپنے ہر ایک صحابی اور صحابیہ بلکہ تمام نوع انسانی کے لیے اللہ کے پیغام کو عام کردیا اور اس کو اتنا آسان بنادیا کہ کسی بھی شخص کے لیے اس کو اپنا آسان ہوجائے، سوائے شیطان اور اس کے چیلوں کے جو اللہ کی نافرمان قوم ہے۔ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نما ز اور اللہ کی بندگی پر بہت سی احادیث ہیں جو اب ہر قاری کے مطالعہ کے لیے دستیاب ہیں ، بس معاملہ ہے تو عمل کو شروع کرنے کا۔     
اللہ راضی ہے تو اپنے ساجدوں سے جو اس کے آگے زیادہ سے زیادہ فرضی نمازوں کے ساتھ نفلی نماز ادا کرتا ہو۔ وہ کبھی بھی رزق کی کمی سے ناراض نہیں ہوتا، یہ رزق کا وعدہ تو اس نے پتھر میں رہنے والے کیڑے سے بھی کیا ہے۔ رہا سوال علم کا تو وہ انسان کی اپنی ذاتی چاہت ہے جتنا حاصل کرے گا تو اس کا شعور بڑھے گا۔ ابب آپ کے اندر یہ سوال بھی آ سکتا ہے کہ کیڑا تو عبادت نہیں کرتا۔  
اسی زمرے میں آپ کو ایک حکایت سناتا ہوں کہ ایک بار حضرت داود علیہ السلام بیٹھے زبور پڑھ رہے تھے آپ سرکار نے ایک سُرخ رنگ کے کیڑے کو دیکھا جو مٹی سے نکلاتو اپنے تئیں دل میں خیال کرنے لگے کہ اللہ نے اس کو کس لیے بنایا،اللہ نے کیڑے کو زبان دی تو وہ بول اُٹھا اور عرض کرنے لگا،
اے اللہ کے نبی! اللہ نے میرے دل میں ڈال دی کہ میں دن میں ہر روز ایک ہزار بار یہ پڑھا کروں
سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر
میری رات بھی اس عمل سے گزرتی ہے۔
اللہ سے ڈرو توبہ کرواور اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔
وہ تمہارے ہر رزق کا مالک ہے۔
دنیا میں دو ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں ایک جو باجرات ہیں اور دوسرے متوکل۔
باجرات ادمی اللہ کی عبادت میں کامیاب رہتا ہے وہ عبادت کی غرض سے اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ اور کام کرنے اور روزگار کمانے میں آگے رہتا ہے۔اسی طرح توکل کرنے والا کا احوال ہے۔ یقین کامل اور اور اعتماد سے ہی کامیابی ملتی ہے۔
اصل میں نفس کا عارضہ ایسا ہے کہ یہ انسان کو بے صبر اور غیر اطمینان حالت میں لے جانے کا ذمہ دار ہے۔ جس شخص کا نفس جتنا مضبوط ہوگا وہ اتنا ہی لوگوں کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے، اس کا اپنے رب پر یقین کم ہوتا چلاجاتا ہے۔ یہ نفس کی گھاٹی میں پڑے ہوئے لوگ کم ہی اللہ کے راستے کو چنتے ہیں۔ کوشش کرنا جائز ہے مگر کسی کی مجبوری کا غلط استعمال ٹھیک نہیں۔ اللہ کے گھر ہی سے دعا کی جائے وہی انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔ مدد کی طلب جائز ہے جن لوگوں کو اللہ نے اپنی آسودگی عطا کی ہے وہ اگر اپنے کی مدد کرتے ہیں تو وہ اجر اللہ سے پائے گے ، اسی لمحے ان کے گناہوں کو جو انجانے ہوئے ہیں ان کو اللہ اپنی بے شمار رحمتوں سے بھر دے۔
جو شخص کے نفس کی گھاٹی سے بچا ہوا ہے وہ نہ تو ذلیل و خوار کیا جاتا پے اور نہ ہی رزق کی تنگی کا شکار ہوتا ہے۔ ہمارا نفس ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے جس کو اگر ہم قابو میں نہ رکھیں تو وہ بے لگام کی مانند بھاگتا ہے، یہ نفس امارہ ہماری تباہی کا باعث ہے اگر اس کو سمجھایا نہ جائے تو اس کو لگام ڈالنی مشکل ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف اللہ کی ذات فرماتی ہے کہ جو میرا ہوگا وہ میری طرف آ ہی جائے گا۔ نفس کا ہماری جان کے ساتھ لگانا ہمارا امتحان لینا ہے کہ کون اللہ کے راستے کوچنتا اور کون شیطان کے راہ کا ساتھی ہے۔ یہ دنیا اس ضمن میں ایک بھول بھلیاں ہے۔ جس میں ایک راہ غلط ہوگئی تو آگے آنے والے کئی راستےبند ملے گے۔ اور راستہ ایک ہی ہے اور وہ صراطِ مُستَقیم نبی مُحترم سید المُرسلین ﷺ کا۔
باقی اللہ کی ذات سورۃ البقرہ میں ارشاد کرتی ہے۔
ولنبلونکم بشی من الخوف والجوع ۔۔۔۔۔۔۔۔ وانا الیہ راجعون۔
اور دیکھو ہم تمہارا امتحان کریں گے۔کسی قدر خوف سے فاقہ سےاور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سےاور اپ صابرین کو بشارت سنا دیجیے جن کی یہ عادت ہے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہےتو کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کی ملک ہیں اور ہم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
ان کے علاوہ اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جن سے اکثریت اپنے ہی رشتہ داروں کو ایذا پہچانے میں چوکتے نہیں۔ ان میں کینہ، حسد، بغض، غصہ ، برداشت کا نہ ہونا، بُخل، حرص، چغل خوری، غیبت، حرام خوری، زنا،غرورو تکبراور ناحق مال کھانا جیسی باتوں سے بھی اللہ کی ناراضی انسان اپنے اوپر لے لیتا ہے۔
میں دعا گو اپنے اس ہر قاری پہ کہ اللہ ہمیں اپنا قرب جو سجدہ میں مخفی ہے رکھے رہے۔ اللہ نے جس سے نماز چھین لی اس سے وہ واقعی ہی ناراض ہے۔